آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیانت، نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اِس عہدِ بد دیانت میں کسی کا دیانت دار ہونا بھی کسی کرامت سے کم نہیں۔

عمران خان سے لوگ اِسی لئے محبت کرتے ہیں کہ اس کے دامن پر بددیانتی کا کوئی داغ نہیں۔

بالکل اسی طرح وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے کپڑے بالکل اجلے ہیں۔ بلوچستان کے لوگ کہتے ہیں ’’وہ اور کچھ بھی ہو سکتے ہیں بددیانت نہیں ہو سکتے‘‘ حتیٰ کہ اُن کے بڑے بڑے مخالفین بھی اُن کی امانت داری اور دیانت داری کے قائل ہیں۔

بلوچستان تو وہ صوبہ ہے جہاں شاید ہی کسی اہلِ حکومت نے کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھوئے ہوں۔ بلوچستان میں نسلی اور مذہبی منافرت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہی کرپشن رہی ہے کہ نواب اور سردار وسائل غریبوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتے تھے۔

جام کمال جیسے ہی وزیراعلیٰ بنے انہوں نے کہا ’’بلوچستان میں اب کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں‘‘۔ ان کا خاندان تقریباً تین سو سال سے مسلسل حکومت میں چلا آرہا ہے۔

صبح قومی اسمبلی کی راہداریوں سے خبر ملی کہ اِن کے ایوانِ اقتدار میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ اگلے ماہ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد شروع ہوگی۔ تمام پلاننگ خاموشی سے مکمل کرلی گئی ہے۔

اگلا وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو بھی ہوسکتا ہے اور یار محمد رند بھی، طارق مگسی کی بھی لاٹری نکل سکتی ہے۔

اس وقت اپوزیشن کے پاس چوبیس ووٹ ہیں اور جام کمال کے پاس اکتالیس۔ خاصا فرق ہے مگر فرق مٹانے والوں کے حوصلے بڑے جوان تھے۔ سوچتا ہوں کہ کون کون جام کمال کو دھوکا دے سکتا ہے۔

اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ بے شک سات ایم پی ایز ہیں مگر انہیں پہلے اسپیکر شپ چھوڑنا پڑے گی اور پھر بھی کامیابی ضروری نہیں۔ اگر اپوزیشن مل بھی جائے ساتھ ان کے کل ووٹ اکتیس بنتے ہیں۔ پھر بھی جام کمال کے ووٹ زیادہ ہیں۔

کہتے ہیں عبدالقدوس بزنجو کی تو اپنی نشست لٹکتی ہوئی تلوار کی زد میں ہے ان کا تعلق ڈاکٹر اللہ نذر کے حلقے سے ہے جہاں سےوہ صرف پانچ سو ووٹ لے کر ایم پی اے بنے۔ اتنے ووٹوں سے کوئی ایم پی اے تھوڑا بن جاتا ہے۔

وہاں تو دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے تھے مگر شاید کسی نے درِ عدالت پر دستک ہی نہیں دی۔ وہ ایک مرتبہ پہلے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں شاید اس لئے انہیں چین نہیں پڑتا۔

جہاں تک یار محمد رند کی بات ہے تو ان کی سرگزشت اتنی ہے کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

وہ ایک لمحہ بادشاہ ہیں تو دوسرے لمحے فقیر۔ موڈ اچھا ہو تو دریا پار کرلیں نہ ہوتو نالی بھی سمندر ہے۔ ان کے ساتھ صرف ایک خاتون ممبر ہے۔ باقی پی ٹی آئی کے سات ایم پی ایز ہیں مگر وہ پارٹی کے پابند ہیں۔

وہ ساتھ مل بھی جائیں تو رند صاحب جام کمال کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ اپوزیشن میں جمعیت علمائے اسلام (مولانا فضل الرحمٰن گروپ) بھی شامل ہے جس کے پاس گیارہ ووٹ ہیں۔ مولانا وہ ووٹ کسی ایرے غیرے کو تو دےسکتے ہیں رند کو نہیں۔

میں نے یہ حساب کتاب لگایا تو مجھے لگا کہ یہ غنچے بن کھلے مرجھا جائیں گے۔ بن کھلے غنچوں سے نواز شریف یاد آ گئے ہیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب وہ وزیراعلیٰ ہوتے تھے۔ کسی کے جنازے کے ساتھ قبرستان گئے تو کسی بچے کی قبر کے کتبے پر لکھا ہوا یہ شعر پڑھا۔

پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئے

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

انہیں بڑاپسند آیا۔ اُس کی کوئی سیاسی معنویت ذہن میں آئی ہوگی۔ اپنے ساتھی سے کہنے لگے ’’شعر نوٹ کرلو کسی وقت کام آئے گا‘‘۔

اور پھر ایک دن میری اسلام آباد کی گلیوں میں شام ہوگئی۔ ایک دوست نے کہا ’’چلو ایک دوست سے کھانا کھاتے ہیں۔ وہ مجھے بلوچستان ہائوس لے گیا۔ میں نے دوست کے دوست کو حیرت سے دیکھا۔

اس کی دراز عمری کی دعا کی۔ دوست کا وہ دوست جام کمال تھا۔ اُن کے ساتھ لمبی نشست ہوئی۔ رات کے ڈیڑھ بجے اٹھ کر آئے۔ تقریباً ہر بات ڈسکس ہوئی۔ یہاں تک بھی معلوم ہو گیا کہ عبدالقدوس بزنجو کو اُس کے حلقے کے لئے 80کروڑ کے ترقیاتی پروجیکٹ دئیے جا چکے ہیں۔

وہاں سینیٹر انوار الحق کاکڑ اور سینیٹر منظور کاکڑ بھی موجود تھے۔ جام کمال نے گزشتہ دنوں ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ گزارا تھا۔ انہوں نے سہیل وڑائچ کی بڑی تعریف کی، اچھا لگا۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی ملائمت تھی۔

بھرا ہوا آدمی تھا۔ ان سے مل کر احساس ہوا کہ وزیراعلیٰ ایسا ہی شخص ہونا چاہئے۔ وہ شاید پہلے صوبائی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل بھی رہ چکے ہیں۔

جام کمال کے خلاف اپوزیشن کافی عرصہ سے سر گرم عمل ہے۔ مجھے یاد ہے جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی تو ہمارے ایک معروف کالم نگار اور تجزیہ کار نے کہا تھا ’’صادق سنجرانی کے بعد جام کمال بھی فارغ‘‘ مگر جام کمال کی باری کہاں آنا تھی اپوزیشن تو صادق سنجرانی کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ چار اکتوبر کے بعد بھی کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

چار اکتوبر دراصل بلوچستان میں تبدیلی کا دن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک بڑے قلمکار کا ایک جملہ یاد آگیا ’’دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جاتے‘‘۔ سو جام کمال کی تبدیلی کا بھی کوئی امکان نہیں۔ عثمان بزدار کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے۔

ادارتی صفحہ سے مزید