آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان جیسے 22کروڑ کی آبادی والے ملک میں بلدیاتی ادارے شہری زندگی کا لازمی حصہ ہیں، ملک کی اس وقت 60فیصد سے زائد آبادی دیہات میں رہتی ہے، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں بلدیاتی نظام 1872سے رائج چلا آ رہا ہے، اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اسے آج یہاں انتہائی فعال اور ترقی یافتہ ہونا چاہئے تھا لیکن یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تجربات بلدیاتی نظام پر ہی کئے گئے جس سے قومی آمدنی یا بجٹ کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچ پائے۔ متعدد بار بلدیاتی ادارے معطل ہونے سے 60فیصد سے زیادہ آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی، صحت و صفائی، پرائمری تعلیم، منڈیوں کے مربوط نظام اور تعمیر و ترقی سے محروم ہے۔ حالت یہ ہے کہ نچلی سطح پر عوام سے اکٹھے کیے جانے والے محاصل کا بڑا حصہ انہی جگہوں پر خرچ کرنے کے بجائے زیادہ تر بدعنوانی اور رشوت کی نذر ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے ایجنڈے میں بلدیاتی نظام کی اصلاح کو سرفہرست رکھا تھا جس کے تحت اس نے اپنے قیام کے فوراً بعد جو 100روزہ ماسٹر پلان بنایا تھا اس سلسلے میں تمام کام مکمل ہونے پر پنجاب اور کے پی میں سابقہ نظام کے تحت چلنے والے بلدیاتی ادارے توڑے جا چکے ہیں اور اب اگلے مرحلے کیلئے متعین ترجیحات پر کام ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران

خان نے اس سلسلے میں بدھ کے روز اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں واضح کر دیا ہے کہ نئے بلدیاتی ادارے قومی اداروں کی نرسریاں ثابت ہوں گے جہاں بااختیار منتخب نمائندے بلا رکاوٹ اپنی توانائیاں تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل حل کرنے میں صرف کر سکیں گے۔ پرانا بلدیاتی نظام معطل ہونے کے بعد سے مقامی حکومتیں فعال نہیں ہیں، امید کی جاتی ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت اِن حکومتوں کو جلد از جلد فعال بنایا جائے گا۔