آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم ڈی کے آنے پر سبحان احمد کا کیا کام ہے، عامر سہیل کا سوال

سابق ٹیسٹ کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین پر تبصرے کے دوران پی سی بی کے چئیرمین احسان مانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد بورڈ میں کیا کر رہے ہیں؟

جیو نیوز کے پروگرام ’’اسکور‘‘ میں بات چیت کے دوران جارح مزاج اوپنر عامر سہیل کا کہنا تھا کہ مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو ابھی وقت دیں، انہیں پاکستان کرکٹ کی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ احسان مانی کی موجودگی میں ورلڈ کپ کے بعد کیے جانے والے اقدامات کو سراہتا ہوں، کیونکہ بورڈ نے مینجمنٹ کو تبدیل کر کے پہلا درست قدم اٹھا یا ہے، لیکن اب قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے ڈومیسٹک نظام کو بھی نافذ کر لینے دیں، پتہ لگ جائے گا، کون درست تھا؟ اور کون غلط، البتہ انہوں نے بورڈ میں برسوں سے موجود سبحان احمد، ذاکر خان اور ہارون رشید کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان سمیت اور بہت سے لوگوں کا احتساب کیے بناء آپ مستقبل میں پی سی بی کو درست سمت میں نہیں لے جا سکتے۔

2009ء میں پی سی بی میں بطور ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ خدمات انجام دینے والے عامر سہیل نے واضح موقف اختیار کیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں بورڈ کے ڈومیسٹک نظام کی تبدیلی سے لے کر کئی اہم فیصلوں کا حصہ رہے، اب بھی یہی لوگ براجمان ہیں، تو کیسے بناء اپنا احتساب کیے، آپ نئے فیصلے کر سکتے ہیں۔

جب ان سے سرفراز احمد کے مستقبل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد کے نائب کو اگر بورڈ نے تیار نہیں کیا، تو انہیں یوں کپتانی سے ہٹانا، پاکستان کرکٹ کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہوگا، ہاں پرفارمنس کے معاملے میں سرفراز احمد کو جانچا جا سکتا ہے، جس پر بھی بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ میں انہیں ’’اے‘‘ کیٹگری دے کر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے۔

عامر سہیل نے کہا کہ سرفراز کو سینٹرل کنٹریکٹ ’’بی‘‘ کیٹگری دے کر دوسرے کھلاڑیوں کو واضح پیغام دیا جا سکتا تھا کہ پرفارمنس پر کپتان کیساتھ بھی کوئی رعایت نہیں، البتہ ایسا نہیں کیا گیا۔ جس پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

عامر سہیل نے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کو بورڈ کا ناکام ترین افسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ وسیم خان بطور مینجنگ ڈائریکٹر بورڈ کا حصہ بن گئے ہیں، ان کے پاس اختیارات بھی ہیں تو سبحان احمد کیوں بورڈ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں؟، ان کا مینجنگ ڈائریکٹر کی موجودگی میں بورڈ میں رہنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔

عامر سہیل نے سبحان احمد سے سوال کیا کہ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام میٹنگز میں وہ کیا کرتے رہے؟ ہمیں تو تین ٹیسٹ کی ایک ہی سیریز ملی، باقی دو، دو ٹیسٹ کی سیریز ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید