آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں مجھے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) کے وفد کے ساتھ ای سی او چیمبرز کی بورڈ میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔ 28 سے 30 جولائی تک توب پلازہ میں منعقدہ اجلاس میں ای سی او کے تمام 10 ممالک پاکستان، ترکی، ایران، افغانستان، ترکمانستان ، آذربائیجان، قازقستان، تاجکستان، ازبکستان اور کرغزستان کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ تقریب کے میزبان ترکی کی یونین آف چیمبرز کے صدر رفعت حسارکلیگو تھے جو ترکی کی فیڈریشن، اسلامک چیمبرز اور ای سی او (ECO) سے گزشتہ 25سال سے وابستہ ہیں اور میرے قریبی دوست ہیں۔ رفعت نے مختلف فورمز پر ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ ترک فیڈریشن کا کئی بار صدر اور ترکی کے بہت بڑے بزنس گروپ کے سربراہ ہونے کے ناطے ان کے صدر رجب طیب اردوان سے نہایت قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ترکی میں بھی ان سے ملاقات کی تھی۔ میری رفعت سے پہلی بار ملاقات وزیراعظم شوکت عزیز کے دورہ ترکی جس کے وفد میں، میں بھی شامل تھا، کے دوران ہوئی تھی۔ انہوں نے میری درخواست پر ترکی کے وزیراعظم اور وزیر تجارت سے پاکستانی مصنوعات پر18فیصد ڈیوٹی واپس لینے میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا تھا لیکن ترکی کی مقامی صنعت کے تحفظات کی بناء پر یہ ڈیوٹی واپس نہیں لی جاسکی اور ٹیکسٹائل مصنوعات بالخصوص ڈینم فیبرک پر مجموعی 24 فیصد ڈیوٹی کے باعث پاکستان کی ترکی کو ایکسپورٹ جو 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، کم ہوکر آدھی رہ گئی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ہم ترکی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر کام کررہے ہیں۔ ترک حکومت ٹیکسٹائل مصنوعات کو آزاد تجارتی معاہدے میں شامل کرنے کی حامی نہیں جس کے بغیر یہ معاہدہ پاکستان کیلئے بے سود ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں، میں نے حالیہ دورے میں اپنے دوست اور استنبول میں متعین پاکستانی قونصل جنرل ڈاکٹر بلال خان پاشا سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔

ای سی او اجلاس کے شرکاء نے ممبر ممالک کے مابین باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور اپنے اپنے ملک کے پوٹینشل پر پریذنٹیشن پیش کیں۔ میں نے ای سی او ممالک میں تجارت، سیاحت، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ اور موثر ثالثی نظام کی ضرورت پر پاکستان کی طرف سے مختلف اجلاسوں میں 5پریذنٹیشن دیں۔ میں نے ای سی او ممالک کے مابین ویزےکے اجراء کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا اور ای سی او ممالک کے مابین سارک (SARC) چیمبرزکی طرز پر ویزے کیلئے ای سی او اسٹیکرز کی سفارش کی جس کی کئی ای سی او ممالک توثیق کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ای سی او ممالک کے مابین تجارتی معاہدے ’’ایکوٹا‘‘ (ECOTA) جس کی زیادہ تر ممبرممالک نے توثیق کردی ہے، پر جلد عملدرآمد کی درخواست کی۔ اس موقع پر میں نے ای سی او ممالک کے مابین حلال فوڈ کی ایکسپورٹ اور میڈیکل ٹورازم کے بے پناہ پوٹینشل کو پیش کیا۔2018ء میں ای سی او ممالک کی مجموعی تجارت 65 ارب ڈالر تھی جس میں سے پہلے نمبر پر ترکی ہے جس کی ای سی او ممالک کے ساتھ تجارت 17.6 ارب ڈالر (27 فیصد) ہے۔ دوسرے نمبر پر ایران 11 ارب ڈالر (17 فیصد) اور تیسرے نمبر پر افغانستان 9.4 ارب ڈالر (14.5 فیصد)ہے جبکہ پاکستان کی ای سی ممالک کو تجارت صرف 3.1 ارب ڈالر (4.8 فیصد) ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان مجموعی سرمایہ کاری 2018ء میں 27 ارب ڈالر تھی جس میں ترکی کی 13 ارب ڈالر، قازقستان کی 3.8 ارب ڈالر اور ایران کی 3.5 ارب ڈالر تھی جبکہ پاکستان کی سرمایہ کاری صرف 2.3 ارب ڈالر رہی۔میں نے اپنی پریذنٹیشن میں پاکستان میں سیاحت کے پوٹینشل اور اس میں سرمایہ کاری کے بارے میں موجودہ حکومت کی مراعات اور 50ممالک کو آن آرائیول اور 175ممالک کیلئے ای ویزا سہولتوں کے بارے میں بتایا۔ میں نے سی پیک (CPEC) کے اسپیشل اکنامک زونز (SEZs)میں ای سی او ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جہاں حکومت نے 21 سال کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر ترکی کی جانب سے ان کی ٹورازم انڈسٹری پر ایک پریذنٹیشن پیش کی گئی جس کے مطابق 2018ء میں تقریباً 200ممالک سے 45ملین سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا جس سے ترک حکومت کو 35ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ 2017ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی ٹورازم رینکنگ میں ترکی 38 ملین سیاحوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر آتا ہے جبکہ پہلے نمبر پر فرانس 87 ملین، دوسرے نمبر پر اسپین 82ملین، تیسرے نمبر پر امریکہ 77 ملین، چوتھے نمبر پر چین 61 ملین، پانچویں نمبر پر اٹلی 58 ملین، چھٹے نمبر پر میکسیکو 39 ملین جبکہ 38 ملین سیاحوں کے ساتھ انگلینڈ، ترکی اور جرمنی ساتویں، آٹھویں اور نویں نمبر پر آتے ہیں۔

2018ء میں دنیا میں سیاحوں کی مجموعی تعداد کا تخمینہ 1.4 ارب لگایا گیا ہے جس میں ترکی کا حصہ 3 فیصد ہے جبکہ دنیا میں ٹورازم سے حاصل ہونے والے آمدنی کا تخمینہ 1.3 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے جس میں ترکی کا حصہ 2.14 فیصد ہے جو 14 ویں نمبر پر آتا ہے۔ ترکی نے یہ مقام حاصل کرنے کیلئے 1974ء سے جدوجہد کی اور اپنی ہوابازی صنعت کو فروغ دیا۔ ٹورازم کے فروغ کیلئے ٹور آپریٹرز کو پروفیشنل ٹریننگ دی گئی جنہوں نے یورپ میں ترکی کیلئے بڑی مارکیٹ حاصل کی۔ آج ترکی کے سیاحوں میں روس 6 ملین سیاحوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، جرمنی 4.5 ملین کے ساتھ دوسرے، بلغاریہ 2.4 ملین کے ساتھ تیسرے نمبر پر، انگلینڈ 2.3 ملین کے ساتھ چوتھے نمبر پر، جارجیا اور ایران 2 ملین کے ساتھ پانچویں اور چھٹے نمبر پر آتے ہیں۔ترکی سیاحوں کو ایکو ٹورازم، ہیلتھ ٹورازم، اسپورٹس ٹورازم، ایئر ٹورازم، ہائیکنگ ٹورازم، فیملی ٹورازم کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 2020ء میں ورلڈ ٹورازم فورم کے پاکستان میں انعقاد کا اعلان کیا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد غیر ملکی مندوبین شرکت کریں گے جو پاکستان میں ٹورازم کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔