آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بد قسمتی تو دیکھیں عمران خان کی 22سال کی سیاسی محنت صرف 10ماہ میں ہچکولے کھا رہی ہے ۔ایک طرف تمام سیاسی قوتیں جو ماضی میں مسلسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھیں آج اقتدار سے باہر ہیں مگر پی ٹی آئی حکومت کے پے در پے غلط فیصلوں سے اچھی بن رہی ہیں۔حقیقت میں آج عوام ان کو بری طرح یاد کر رہے ہیں ۔دھرنوںمیں جو تبدیلی کے نعرے کا ساتھ دیا تھا آج عوام اس تبدیلی کے نام سے چڑ رہے ہیں۔وہی مہنگائی ،وہی بجلی پانی کی تکالیف ،پیٹرول گیس کی ہفتہ وار قیمتوں میں اضافہ،پھر ڈالرکی بے لگام پروازکس کس کا رونا روئیں،دراصل سیاست عمران خان سمجھ ہی نہیں سکے اور جو سیاسی لوگ جو ق در جوق پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے ،عمران خان ان کی ضرورت تھے اور عمران خان کو سمجھایا گیا تھا کہ اگر ان سیاسی افراد کو ساتھ نہیں رکھا تو اقتدار ملنانا ممکن ہے۔درمیان میں بی بی کا آنا ایک معمہ ہے،نہ قوم سمجھ سکی نہ خود عمران خان سمجھ سکے یہ کوئی غیبی طاقت تھی جو ان کو اقتدار دلا گئی؟

اب جب اقتدار ملا تو تجربہ صفر تھاغلطیاں تو ہونی تھیں ۔تو وہی ہوا اصول، وعدے بے شک خلوص سے منسلک تھے ۔اب ہر طرف افرا تفری مچی ہے ایک طرف نیب کا کمزور قانون اور دوسری طرف مضبوط سیاسی سوداگروں کوگھیر گھار کر جیل تک تو لے آئے مگر ان سے لوٹی ہوئی دولت نہیں نکلوا سکے۔صرف صنعتکار،تاجر،دکاندار ،انجینئر،ڈاکٹراور جو بھی نان فائلر ہوسکتا تھا ان پر بھرپور ہاتھ ڈالنے کا منصوبہ، خود بیوروکریٹس حضرات نے توخود کو محفوظ رکھتے ہوئے فارمولا دیا اب بندر کے ہاتھ اگر ایک استرا لگ جائے تو آپ کیا توقعات رکھیں گے۔سب نے عمران خان کو باور کرادیا ہے کہ سب نان فائلر حضرات کو فائلر بنانے کا وقت آگیا ہے ۔آپ قدم بڑھائیںہم آپ کے ساتھ ہیں۔ دفتروں، گھروں، دکانوں پر چھاپے ماریں ہم سب برآمد کر لیں گے۔گویا بیورو کریٹس حضرات معصوم فرشتے ہیں اور باقی سب ٹیکس چور ہیں۔صفائی سے FBRکو عوام کے پیچھے لگا کر خود تماشہ دیکھ رہے ہیںسلیکٹڈ افراد کو موقع مل گیا ہے۔پچھلے کالم میں راقم نے لکھا تھا کہ جولائی کا مہینہ بہت اہم ہے وہ اب نظر آنے لگا ہے۔ پورا پاکستان اب احتجاج اور میدان میں نکلنے کے لئے تیار ہے بس صرف ایک تیلی کی کسر ہے،تیل اور ڈیزل بیورو کریٹس اور حزب اختلاف چھڑک چکی ہے،بارش کے پہلے قطرے کا انتظار ہے۔فروٹ اور سبزی فروش بھی ڈالرکی آڑ میں قیمتوں میںاضافہ کر چکے ہیں قیمتیں گویا اب آسمان سے نیچے نہیں آسکتی۔خدارا کون کہتا ہے کہ صرف 10،12لاکھ فائلر ہیںیہ تو دنیا کاواحد ملک ہے جس میں22کروڑ عوام از خود فائلر بن چکے ہیں ۔

پاکستان واحد ملک ہے جہاں سیلز ٹیکس فیکٹری سے مال نکلنے سے پہلے ہی 17فیصد وصول کر لیا جاتا ہے جو عوام سے صنعتکار وصول کرتا ہے بھلاپاکستانی عوام امریکہ اور کینیڈا سے زیادہ مالدار ہیںوہاں جب عوام کوئی چیز خرید تے ہیں تو ان سے 7سے8فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جب کہ 17فیصد یعنی10فیصد زیادہ یہ IMFکا فارمولا صرف قرضہ لینے والے ممالک کے لئے مخصوص ہے،پھر ہر سطح پر جب خام مال سمندر یا ہوائی راستے سے ملک میں آتا ہے تو سیلز ٹیکس کے علاوہ ایکسائز ٹیکس جو پوری دنیا سے ختم ہو چکا ہے وہ بھی وصول کیا جاتا ہے اور وہ بھی بعد میں عوام کو دینا پڑتاہے ۔انکم ٹیکس ایڈوانس مال کی درآمد کے ساتھ ہی وصول کر لیا جاتا ہے اور پھر اگر درآمد کرنے والے کی آمدنی اس سے کم ہوتو واپس بھی نہیں ہوتا یہ بھی IMFکی کارستانی ہے جو اس نے اس غریب مسکین ملک پاکستان کے لئے مخصوص کر رکھی ہے اور آگے بڑھیے آپ جو موبائل پر رقم لوڈ کراتے ہی30فیصد ٹیکس کاٹ کر ملتا ہے بجلی کا بل بھریں اس پر ٹیکس حتیٰ کہ آپ ٹیلی وژن دیکھیں نہ دیکھیں پھربھی آپ کے اکائونٹ سے ہر ماہ 25روپے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ہر قدم پر Indirectٹیکس تو ہر کوئی ادا کر رہا ہے پوری دنیا میں اگر آپ کوئی بھی Indirectٹیکس دیتے ہیں تو سالانہ گوشوارے میں Adjustکیا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں ایساکوئی رواج نہیں ہے۔

خدارا اس نظام کو ایک رات میں نافذکرنے کی کوشش نہ کریں جن سیاسی لٹیروں سے کھربوں روپے لینے کا وعدہ کیا تھا ان سے تو ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرسکے،لے دے کر یہ عوام وہ بھی کراچی کے سر پر من سوا من لاداجا رہا ہے۔ 50ہزارکی شرط ان سے وصول کریں جو نان فائلر ہیںجو خود ہی ٹیکس جمع کراکر ہلکان ہوچکے ہیں ان پر یہ مزید بوجھ نہ ڈالیںآپ ہوش سے کام لیں ۔اگر آج جیساحزب اختلاف پروگرام بنا رہی ہے مڈ ٹرم الیکشن ہوگیاتو عمران خان سن لیںپی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والا بھی ڈھونڈو گے تو نہیں ملے گا۔پوری معیشت اور تجارت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ہر طرف افرا تفری ہے قوم کسی وقت بھی ہاتھوں میں پتھر اور ڈنڈے پکڑ کر پی ٹی آئی والوں کا گھیرائو کرنے والی ہے آپ کے نادان مشیر جن کو آپ خصوصاََ صنعتکاروں، تاجروں اور دکانداروں پر مسلط کر چکے ہیں وہ آپ کو مکمل ڈبو کر پھر وہیں چلے جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہتے ہیں ۔ IMFکے یہ کارندے گزشتہ 40سال سے پاکستان کو کھوکھلاکر کے IMFکو زندہ کئے ہوئے ہیں۔ اب بھی وقت ہے یہ تمام غیر سیاسی فیصلے واپس لیں۔اگر غلط فیصلوں کو واپس نہیں لیا گیاتو صنعتیں چند ماہ میں ہی بند ہوجائیں گی۔بھٹو صاحب کی غلط صنعتی پالیسیوں کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں ۔صنعتی دماغ پاکستان سے دبئی ،امریکہ اور یورپ جا چکے ہیں اب ان بچے کھچے صنعتکاروں کو نظر اندازنہ کریں وہ پہلے ہی اتنی مشکلات کے باوجود پاکستان میں ٹکے ہوئے ہیں۔دنیا اب ان کو بلا رہی ہے طرح طرح کے لالچ دے کر خود ان سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔پی ٹی آئی حکومت آخری کیل ٹھوکنے کی پوری تیاری کر چکی ہے اس کو روک لیں اور دوبارہ مذاکرات سے کچھ لیں کچھ دیں گے توبقایا 4سال آپ کی حکومت رہ سکتی ہے ورنہ پاک سر زمین شاد باد کا ترانہ ۔۔۔۔جو صنعتکارپاکستان واپس آنے کے لئے بے تاب تھے صرف 10ماہ کی کارکردگی دیکھ کر اب اپنا ارادہ ملتوی کر چکے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں