آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی بزنس کمیونٹی کے 55سے زائد کمپنیوں کے سربراہان کے وفد نے جو ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے، وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے اور وطن عزیز میں آئندہ تین سے پانچ سال میں 5ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ متذکرہ سرمایہ کاروں میں سے بیشتر کا تعلق درمیانی اور چھوٹی صنعتوں سے ہے۔ پاکستان میں اس شعبے کو گزشتہ چار دہائیوں سے تیزی سے فروغ حاصل ہوا ہے اس کے باوجود فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، کراچی، گدون آمازئی اور حطار جیسے صنعتی شہروں کے علاوہ ملک کے دوسرے مقامات پر بھی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور اس بات کا اظہار وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر چینی سرمایہ کاروں نے بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے پہلے سال میں پاکستانی افرادی قوت کو 50ہزار سے زیادہ ملازمتیں میسر آئیں گی۔ چین دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے، اس کے توسط سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کے نئے دروازے کھلیں گے گویا صنعت و تجارت کے شعبے میں چین کے تجربات اور اشتراکِ عمل سے فائدہ اٹھانے کا وزیراعظم کا یہ بیانیہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم چین کے

تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی معیشت کی بحالی میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرنا اور برآمدات کاحجم درآمدات سے زیادہ کرنے کی ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوں ملکوں کا صنعتی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں باہمی اشتراکِ عمل جو سی پیک جیسے عظیم الشان عالمگیر منصوبے کا حصہ ہے، پاکستان کو دنیا کی بڑی صنعتی و تجارتی معیشت بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان کو چین سے مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں