آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی محکمہ اطلاعات میں پونے 6 ارب روپے کے کرپشن ریفرنس میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے۔

عدالت عالیہ نے حکام کو شرجیل میمن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی ہدایت بھی دے دی۔

شرجیل میمن نے پونے 6 ارب روپے کرپشن کے نیب ریفرنس میں درخواست ضمانت دائر کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل میمن کی درخواستِ ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت شرجیل میمن کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کے وارنٹِ گرفتاری بدنیتی پر مبنی ہیں، آمدن سے اثاثوں کی انکوائری دسمبر 2018ء میں شروع کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انکوائری کے دوران نیب کیوں خاموش تھا، جب درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ ہوا تو نیب نے ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا۔

شرجیل میمن کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ شرجیل میمن کہیں نہیں جا رہے، وہ انکوائری میں تعاون کریں گے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر اور شرجیل میمن کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد شرجیل میمن کے وارنٹ معطل کر دیے۔

واضح رہے کہ چیئرمین نیب نے 13 جون کو شرجیل میمن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے 2 بار شرجیل میمن کی درخواستِ ضمانت مسترد کی تھی، ریفرنس میں 17 ملزمان نامزد ہیں جن کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اس ریفرنس میں شامل سابق سیکریٹری انفارمیشن ذوالفقار شلوانی سمیت 13 ملزمان جیل میں ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں