آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ نے وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز منظور کر لیں جو قومی اسمبلی کو سفارشات کے طور پر بھجوا دی گئی ہیں۔

سفارشات کے مطابق  گریڈ 16 تک ملازمین کی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ، کم از کم ماہانہ اجرت 18 ہزار 600 روپے کرنے اور ڈالر کی قیمت 150 روپے پر منجمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجٹ سفارشات میں سالانہ 10 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس چھوٹ دینے، چینی کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے اور سود کے خاتمے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ این سی ایچ ڈی ٹیچرز کی تنخواہیں ساڑھے 17 ہزار روپے مقرر کی جائیں۔ ایچ ای سی کا بجٹ 70 ارب روپے کیا جائے، پری پیڈ موبائل فون صارفین پر ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے ، سود کا جلد از جلد خاتمہ کیا جائے، صحت کے بجٹ پر کٹوتی نہ کی جائے، تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

سفارشات کے مطابق آرمی افسران کو تنخواہوں میں سالانہ اضافے سے محروم نہ کیا جائے، لائن آف کنٹرول ریلیف پیکیج میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے۔ فاٹا اور پاٹا پر 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز کو واپس لیا جائے۔سی پیک منصوبوں کے علاوہ ترقیاتی بجٹ کو گزشتہ برس کی سطح پر منجمد کیا جائے۔

سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ ہزار سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جائے، ڈالر کی قیمت 150 روپے پر منجمد کر دی جائے، پانچ مرلہ اور 60 لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی پر ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے، نیو گوادر ایئرپورٹ اور سی پیک شاہراہوں کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

سینیٹ نے تجویز کیا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے عام شہریوں کا ڈیٹا ویب سائٹ پر نہ ڈالا جائے، آئی ایم ایف اور قرضوں سے متعلق دیگر معاہدے پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں