آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمعہ کا دن تھا، مولوی صاحب منبر پر تشریف فرما وعظ و نصیحت میں مصروف تھے۔ ان کی زیادہ توجہ روزمرہ کے مسائل اور شرعی تقاضوں پر تھی۔ میں پہلی صف میں بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا۔ مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ طہارت شرعی امور کا پہلا تقاضا ہے۔ طہارت کا مطلب ہے کہ انسان کا جسم اور کپڑے ہر قسم کی غلاظت اور غیر پاکیزہ شے سے پاک اور صاف ہوں۔ جب تک طہارت کا عمل پورا نہ کیا جائے وضو نہیں ہوسکتا، اگر طہارت قائم نہ رہے تو وضو بھی قائم نہیں رہتا۔ میں مولوی صاحب کی باتیں سنتے سنتے اپنے خیالات میں کھوگیا یا یوں کہئے کہ من کی دنیا میں ڈوب گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے کچھ دیر کے لئے میرا مولوی صاحب سے رابطہ منقطع اور اپنے آپ سے رابطہ گہرا ہوگیا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ ایسی باتیں صوفیاء اور فقراء بھی کرتے ہیں لیکن اصل میں صوفیاء اور علماء کے انداز، سوچ اور بیان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ صوفی اور فقیر صاحبانِ عرفان ہوتے ہیں اور مخلوقِ خدا کی قلبی کیفیت بدلتے ہیں جبکہ مولوی صاحبان کا سارا فوکس ظاہر پر ہوتا ہے کہ جسم صاف ہو اور کپڑے پاک ہوں۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہئے کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی طہارت کی وہ پہلی سیڑھی ہے جس پر صوفی اور فقیر اپنے عمل اور نظر سے منازل طے کرواتے اور قدم بہ قدم اوپر چڑھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مولوی صاحب ظاہر کی طہارت پر مامور ہیں جبکہ صوفیاء کی کل کائنات ہی باطن ہوتی ہے۔ مولوی جب ہاتھ، پائوں اور منہ کی صفائی کی تلقین کرتا ہے تو صوفی نگاہ، قلب اور باطن کی صفائی کا سبق پڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی طہارت صرف جسم و لباس کی پاکیزگی ہی کو نہیں سمجھتا بلکہ صوفی کے نزدیک طہارت کا مطلب نگاہ، قلب، سوچ اور باطن کی طہارت ہے۔ جب تک باطن نفرت، غصے، حسد، کدورت، بغض، انتقام اور ہوس اور دنیاوی خواہشات سے پاک نہ ہو، باطن کی طہارت مکمل نہیں ہوتی۔ جب تک نگاہ پاک و صاف نہ ہو، جنسی خواہشات اور دنیاوی لذتوں سے مکمل طور پر بےنیاز نہ ہو، اس وقت تک نگاہ کی طہارت مکمل نہیں ہوتی۔ دراصل نگاہ کی حفاظت سب سے زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہی وہ چور دروازہ ہے جہاں سے نفسانی جذبات باطن اور قلب میں داخل ہوتے اور لذتوں کے بت تراشتے ہیں۔ لاشعوری طور پر ایک بار نظر کا اٹھ جانا جائز ہے لیکن دوسری بار یعنی خواہش کے تابع ہو کر شعوری طور پر نظر ڈالنا حرام ہے۔ حرام ان کے لئے جو باطن کی طہارت میں مصروف ہیں ورنہ ہم نے تو ہوس میں ڈوبی ہوئی نگاہوں کو صنف نازک میں اس طرح غرق دیکھا ہے جیسے کمان سے نکلا ہوا تیز دھار والا تیر....... جس طرح جسم کی ظاہری طہارت نماز کے لئے ضروری ہے اسی طرح قلب، نگاہ اور باطن کی طہارت عرفانِ الٰہی، قربِ الٰہی کے لئے پہلی شرط ہے۔ بقول حضرت بابا بلھے شاہ صرف نہانے دھونے، جنگلوں میں رہنے اور گوڈے گٹے رگڑنے سے خدا نہیں ملتا۔ خدا ان کو ملتا ہے جن کی نیت صاف ہوتی ہے، نیت اس وقت تک صفائی کی منازل طے نہیں کرتی جب تک نظر، قلب اور باطن طہارت کی منازل طے نہ کرلیں اور ہر قسم کی حرص و ہوس سے پوری طرح آزاد نہ ہوجائیں۔

میری ایک عادت ہے کہ جب کسی روحانی پہلو بارے رہنمائی کی ضرورت ہو تو حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ کی کتاب کشف المحجوب کھولتا ہوں۔ عام طور پر اسی صفحے سے ملاقات ہو جاتی ہے جس کی تلاش ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب ’’بےپیروں‘‘ کی پیر اور بے مرشدوں کی مرشد ہے بشرطیکہ اسے حرز جان بنایا جائے اور حد درجہ خلوصِ نیت سے اپنایا جائے۔ ظاہر اور باطن کی دنیائوں کے فرق اور مختلف تقاضوں کو سمجھنے اور قربِ الٰہی کی لگن میں غرق صوفیاء کی نگاہ پر کڑی پابندیوں کو سمجھنے کے لئے کشف المحجوب میں دئیے گئے اس واقعہ کو غور سے پڑھیے اور سمجھئے کہ صوفیاء دوسری نگاہ کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جبکہ اہل دنیا کی آوارہ نظریں ہر طرف لذت کے سامان کی متلاشی رہتی ہیں۔ اہل دنیا کی نظروں کا سکون جنسی لذت کے مظاہر میں پوشیدہ ہوتا ہے جبکہ حق کے متلاشی صوفیاء کی نگاہوں کا سکون نظر کی طہارت کی دین اور عطا ہوتا ہے۔ ذرا غور کریں کس قدر پابندیوں اور زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے صوفیاء کی زندگی، کس طرح وہ زندگی بھر تلوار کی دھار سے تیز پل صراط پر چلتے رہتے ہیں۔ تب انہیں قربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے۔

حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ ایک دن بغداد کے ایک محلہ سے گزر رہے تھے کہ انہیں پیاس لگی ایک دروازہ پر جاکر دستک دی اور پانی مانگا۔ ایک عورت پانی کا برتن لے کر حاضر ہوئی۔ انہوں نے پانی لے کر پیا، جب پانی پلانے والی پر نظر پڑی تو ان کا دل اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگیا اور وہ وہیں بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ صاحب خانہ باہر آیا اس سے حضرت مرتعش نے کہا اے خواجہ! میرا دل ایک گھونٹ پانی کا پیاسا تھا تمہارے گھر سے جو عورت پانی لے کر آئی اور مجھے پانی پلایا وہ میرا دل لے گئی ہے۔ صاحب خانہ نے کہا وہ میری بیٹی ہے۔ میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔ اس کے بعد مرتعش دل طلب کی خاطر گھر کے اندر چلے گئے اور اس سے نکاح کرلیا۔ یہ صاحب خانہ امیر آدمی تھا اس نے انہیں حمام بھیجا اور عمدہ لباس پہنا کر گدڑی اتروا دی۔ جب رات ہوئی تو حضرت مرتعش نماز میں مشغول ہوگئے اور خلوت میں جاکر درود و وظیفہ پڑھنے لگے۔ اسی اثنا میں انہوں نے آواز دی ’’ھاتور قعتی‘‘ میری گدڑی لائو۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا ’’ایک غیبی آواز نے مجھ سے کہا کہ اے مرتعش! تم نے ایک نظر ہمارے غیر پر ڈالی تو ہم نے اس کی سزا میں صلاحیت کا لباس اور ظاہر سے گدڑی اتار لی۔ اب اگر تم دوسری بار نگاہ ڈالو گے تو ہم تمہارے باطن سے قرب و معرفت کا وہ لباس بھی اتار لیں گے جس کے پہننے سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوبوں اور اولیاء کی محبت حاصل ہوتی ہے اور جس پر برقرار رہنا مبارک ہوتا ہے، اگر تم حق تعالیٰ کے ساتھ ایسی زندگی گزار سکتے ہو تو گزارو ورنہ تمہیں اپنے دین کی حفاظت کرنا چاہئے اور اولیاء کرام کے لباس میں خیانت نہیں کرنا چاہئے تاکہ تم حقیقی اور سچے مسلمان بن سکو اور کوئی دعویٰ نہ کرو‘‘ (کشف المحجوب ترجمہ مفتی غلام حسین الدین نعیمی مرحوم۔ صفحہ نمبر125)