آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے رمضان بازاروں میں مہنگائی اور غیر معیاری اشیائے خور و نوش کے خلاف درخواست پر چینی اور آٹے کی نیلامی اور قلت سے متعلق پنجاب حکومت سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے یہ ریمارکس کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی سو رہی ہے، رمضان بازاروں میں ناقص آٹا فروخت ہو رہا ہے، عوام کو درپیش مشکلات کی حقیقت واضح کرنے کو کافی ہیں۔ اگرچہ رمضان المبارک میں پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے تمام اضلاع میں 300عام اور 32ماڈل رمضان بازار لگائے گئے ہیں تاہم ان بازاروں کی کارکردگی موثر بنانے اور عوام کو تمام اشیاء کی آسانی سے فراہمی کیلئے کیے گئے اقدامات ناکافی محسوس ہو رہے ہیں۔ اولاً تو اشیائے صرف کا مقررہ نرخوں پر حصول ہی ناممکن ہے، دوم جو اشیاء حکومتی نرخوں پر دستیاب ہیں، وہ غیر معیاری و ناقص ہیں۔ بالخصوص آٹے اور چینی کے ناقص و غیر معیاری ہونے کے حوالے سے عوام کو کافی شکایات ہیں۔ عدالتِ عالیہ کا پنجاب حکومت کے وکیل سے استفسار کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ عوام کو رمضان بازاروں میں 55روپے فی کلو چینی ملے گی، اِس میں ڈالر کا تو کوئی تعلق نہیں، اِسے تو آپ نے کنٹرول کرنا ہے، رمضان بازاروں کے حوالے سے گرانی اور حکومتی نااہلی کو عیاں کرتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو یہ نشاندہی بھی کی کہ شہریوں کو ایک ایک

پاؤ ٹماٹر، پیاز، ادرک اور دیگر سبزیاں فروخت کی جارہی ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جس بندے کی دو بیویاں ہوں، کیا زائد سبزی خریدنے کیلئے دونوں بیویاں ساتھ لے کر آئے؟ صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ گرانی کے سدباب کیلئے جہاں ایک طرف پرائس کنڑول کمیٹیوں کو متحرک و فعال کرے، وہیں معیار کو یقینی بنانے کیلئے فوڈ اتھارٹی کو بھی حرکت میں لائے تاکہ عوام کو ارزاں نرخوں پر صحت بخش معیاری اشیاء کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے اور عوامی ٹیکس کا جو پیسہ رمضان بازاروں میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے خرچ کیا جا رہا ہے، اُس کا عوام کو حقیقی ثمر مل سکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں