آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 26ویں آئینی ترمیم کے بل کی پیر 13مئی 2019ء کو قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں متفقہ منظوری کے بعدصوبہ پنجاب میں نیا انتظامی یونٹ بنانے کے سوال پر اتفاق رائے کیلئے بھی سیاسی رابطے شروع ہوچکے ہیں۔ درحقیقت قومی اسمبلی میں پیر کے روز ہی جنوبی پنجاب صوبے کیلئے ایوان کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی حکومتی تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی تھی مگر اس کے ساتھ ہی بہاولپور کو علیحدہ صوبہ بنانے یا جنوبی پنجاب میں شامل رکھنے کی پرانی بحث پھر سے شروع ہوگئی۔ بدھ کے روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سرکٹ ہائوس ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام نے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو نئے صوبے کا جومینڈیٹ دیا تھااس کے پیش نظر آئینی ترمیمات کے لئے آرٹیکل نمبر1، 51، 59، 106، 198 ، 218میں ترامیم لانا ہوںگی۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں چونکہ دوتہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث مذکورہ صوبہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی تھی اس لئے اب اسے اور دوسری جماعتوں کو دوتہائی اکثریت سے بل منظور کرانے کے لئے پی ٹی آئی کا ساتھ دینا چاہئے ۔ شاہ محمود کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگ ماضی میں اپنے پیش کئے ہوئے ایک

آئینی مسودے کی قیدمیں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ( ن) لیگ کے متعددارکان جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حامی ہیں، اب مسلم لیگ (ن) کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے پی ٹی آئی کے ترمیمی بل کی حمایت کرنی چاہئے۔ شاہ محمود کی مذکورہ پریس کانفرنس پر اسلام آباد سے ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں جمع کراچکی ہے اور یہ بل مجلس قائمہ میں پہلے سے موجود ہے، شاہ صاحب حکومتی نمائندے سے کہیں کہ وہ اس بل پر پیش رفت کا آغاز کریں۔ جہاں تک ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سمیت ایک سے زائد مقامات پر عام لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب سہولتیں فراہم کرنے کے لئے نئے انتظامی یونٹ بنانے کا تعلق ہے، یہ بحث خاصے عرصے سے جاری ہے مگر بوجوہ نتیجہ آور نہ ہوسکی۔ اب قومی اسمبلی میں ترمیمی مسودوں کے حوالے سے رابطوں اور مکالموں کا ایک دور شروع ہوا ہے تو توقع کی جانی چاہئے کہ اس کے نتائج کسی متفقہ موقف کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ ریاستوں کی ذمہ داری میں اس پہلو کو خاص اہمیت حاصل ہےکہ وہاں رہنے بسنے والے لوگوں کی عام ضروریات ان کی دہلیز پر مہیا کی جائیں۔ یورپ اور امریکہ کے متعدد حصوں میں مقامی سطح پر آسانیاں اس حد تک بڑھائی جاچکی ہیں کہ پاسپورٹ اور ویزے کی سہولتیں بھی عام آدمی کو اپنے شہر میں ہی دستیاب ہیں۔ بھارت سمیت کئی ممالک میں بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تبدیل کرکے نہ صرف سرکاری مشینری کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملی بلکہ عام لوگوں اور حکومت دونوں کیلئے وقت کے زیاں سے بچنے اور اخراجات میں کمی کی صورت پیدا ہوئی ۔ آج کے دور کے مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کہ جو شہر دارالحکومت سے جتنا دور ہے اتنا ہی پسماندہ ہے۔ وہاں ترقی کے ثمرات فاصلے کے باعث موثر طور پر نہیں پہنچ پاتے۔ امریکہ اور یورپ سمیت متعدد مقامات پر یہ تدبیر کی گئی کہ چھوٹے انتظامی یونٹوں کی تشکیل کی صورت میں اختیارات نچلی سطح تک پہنچا دیئے گئے اور تیز رفتار مواصلاتی سہولتوں کے ذریعے دارالحکومت سے عام آدمی کا عملی فاصلہ ختم یا بہت کم کرکے سائل اور اہلکار دونوں کے لئے فوری رابطے آسان بنا دیئے گئے ۔ ہمیں بھی نئے صوبوں کے حوالے سے یہ پہلو بہر طور ملحوظ رکھنا ہوگا کہ ان کا تعین ہر قسم کے تعصبات سے بالا ہوکر انتظامی ضرورتوں کی بنیاد پر ہو۔ پسماندگی و محرومی دور کرنے اور رائج الوقت نظام پر اعتماد زیادہ مستحکم کرنے کے لئے یہی بہتر و موثر طریقہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں