آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس طرح انسان کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے خوراک اور جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح سر چھپانے کے لیے چھت بھی اس کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ آبادی میں اضافہ ہونے سے نئے مکانات اور دفاتر کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو اس وقت پاکستان کے بڑے شہروں میں 10لاکھ مکانات کی قلت ہے، جبکہ لوگ کچی آبادیوں میں ابتر حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ بات بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ تعمیراتی صنعت کا مستقبل تابناک ہے۔ صرف یہی نہیں، وقت کے ساتھ تعمیراتی معیار میں بھی بہتری آرہی ہے۔ تاہم یہ ایک الگ بحث ہے کہ تعمیراتی صنعت میں ڈیجیٹائزیشن، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کا انقلاب ابھی تک اس طرح برپا نہیں ہوسکا، جس طرح دیگر صنعتوں میں ہوا ہے۔

اگر آپ کا کسی بھی تعمیراتی سائٹ سے گزر ہو تو آپ کو وہاں بڑے پیمانے پر چہل پہل اور مختلف سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ سیکڑوں مزدور ایک سائٹ پر بیک وقت مصروف عمل ہوتے ہیں۔ آج سے کوئی 50-40برس پہلے بھی تعمیراتی سائٹ پر اسی طرح کی سرگرمی دیکھنے کو ملتی تھی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وقت کے ساتھ کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ لیکن، یہاں یہ بات کہنے دیں کہ یہ طریقۂ تعمیرچار، پانچ عشرے قبل تک تو ضرور مؤثر تھا مگر آج یہ اتنا مؤثر نہیں رہا۔ ذرا تصور کریں کہ، آج کے ایک سائٹ سپروائزر کیلئے ان باتوں کا ٹریک رکھنا کس قدر مشکل ہے کہ سائٹ پر کون سے مزدور کام کررہے ہیں اور کون سے کام مکمل کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کاغذ پر ٹائم شیٹ کا ریکارڈ، روزانہ کا اندراج اور دیگر کام کرنے کے دستی اور فرسودہ انداز، اس شعبے میں بہتری کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

خوش قسمتی سے، اب یہ صورتحال بتدریج نہ صرف تبدیل ہورہی ہے، بلکہ بہتری کی جانب بھی بڑھ رہی ہے۔ آج جس طرح تعمیراتی صنعت کام کرتی ہے، یہ ممکن ہے کہ اس کے مسائل کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کے لیے جدت کو اپنایا جائے۔ ساتھ ہی مواقع کی نشاندہی، مؤثر حل کی تلاش اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں صفِ اوّل رہنےکے لیے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ ایک عمارت کس طرح تعمیر کی گئی تھی، وہ کس طرح کام کرتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ان سوالات کی روشنی میں ہم تعمیراتی صنعت کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل(جو تصوراتی طور پر بہترین حالات کے مطابق ہیں)کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جن کی مدد سے مستقبل میں تعمیراتی سائٹ پر حقیقتاً تعمیراتی سرگرمیاں کی جائیں گی۔

بہتر اور محفوظ عمارتوں کی تعمیر

جیسے جیسے انٹرنیٹ آف تِھنگز (IoT)عام ہوتا جارہا ہے، لوگوں کے طرزِ زندگی پر اس کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔ آج کے دور میں لوگ فوری معلومات کی توقع رکھتے ہیں اور جیسے جیسے زیادہ سے زیادہ ڈیوائسز ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ رہی ہیں، انٹرنیٹ آف تھنگز کی ٹیکنالوجی صنعتوں کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لارہی ہے۔

کام کرنے والے ہنرمند اور جزوی طور پر ہنرمند مزدوروں کی قلت اور موبائل ٹیکنالوجی وغیرہ کے باعث ٹھیکیدار پہلے جو کام دستی کرلیتےتھے، اب انھیں آٹومیشن پر منتقل کیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور محفوظ تعمیرات ممکن ہورہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم، ان سرگرمیوں میں اب بھی پیداواریت، تحفظ اور سائٹ پر کام کے عمل میں بہتری کی بڑی حد تک گنجائش ہے۔ نئے آلات جیسے ویئرایبل ڈیوائسز اور سینسرز کو استعمال میں لاکر پہلے کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ بہتر انداز میں ’جاب سائٹ ڈیٹا‘ اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آن سائٹ سپروائزر اور آف سائٹ منیجر روزانہ کے آپریشنز کی سرسری تصویر دیکھ سکیں، ریئل ٹائم میں مؤثر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے سکیں اور کسی بھی وقت یہ دیکھ سکیں کہ سائٹ پر مزدور کس جگہ اور کیا کام انجام دے رہے ہیں۔ قلیل مدت میں یہ معلومات سائٹ آپریشنز سے متعلق قابلِ عمل اقدامات کی نشاندہی میں مدد دے گی، جبکہ وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف مستقبل کے نتائج کی پیشگوئی کی جاسکے گی، بلکہ کسی ممکنہ حادثے سے بھی بچا جاسکے گا۔

معلومات کی ڈیجیٹل پر منتقلی

تعمیرات یا کسی بھی صنعت میں ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دینے اور مستقبل کو مضبوط تر اور بہتر بنانے کیلئے ’’کیسے‘‘(How)اور اس جیسے دیگر سوالات پوچھے جانے ضروری ہیں۔ ایک مجوزہ خاصیت صارف کی کس طرح بہتر انداز میں خدمت کرسکے گی یا اس کے بہتر استعمال میں آئے گی؟ اس کے استعمال کو عام بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کو کس طرح مطلع کیا جائے گا؟ پراڈکٹ ڈویلپر اور انجینئر صرف اسی وقت ایک ایسا نیا پراڈکٹ تیار کرسکتے ہیں، جو ’ویلیو ایڈیشن‘ کا باعث بن سکے، جب وہ اپنے اندر اس طرح کے سوالات پوچھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اس کا ایک اہم پہلو ’کسٹمر پارٹنرشپ‘ پر توجہ مرکوز کرنا بھی ہے۔

دوسری طرف ٹیکنالوجی کے صارفین، چاہے وہ تعمیراتی صنعت یا پھر کسی اور صنعت سے وابستہ ہوں، اگر جدید سلوشنز کو اپنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انھیں باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ان کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں ہے کہ تکنیکی طور پر ایک ٹیکنالوجی کس طرح کام کرتی ہے بلکہ ان کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ لوگ اس کا کس طرح استعمال کررہے ہیں اور کس طرح اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کررہے ہیں۔

مسائل کی نشاندہی کرکے ڈویلپرز کے اشتراک سے سلوشن پر پہنچ کر اور اعدادوشمار کے نتائج کو عملی طور پر استعمال میں لاکر، تعمیراتی کمپنیاں اپنے لیے مضبوط مستقبل تخلیق کرسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں