آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سے تعلق رکھنے والی عالمی کاروباری شخصیت اور پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی اور سی ای او عارف نقوی کی گرفتاری کی خبر نے پاکستان کے بزنس حلقوں کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ اُنہیں دو روز قبل لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور اُن کے خلاف یہ کارروائی امریکی سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کی گئی۔ عارف نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کی تاہم عارف نقوی نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف بزنس مین عارف نقوی کا شمار عالمی کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1994میں انہوں نے 50ہزار ڈالر کے ذاتی سرمائے سے دبئی میں کپولا نامی کمپنی قائم کی اور بعد ازاں 2002میں دبئی میں ایکویٹی فرم ابراج کی بنیاد رکھی، جس کے دفاتر پاکستان سمیت دنیا کے 25ممالک میں قائم کئے گئے۔ 16سال کے قلیل عرصے میں ابراج کا شمار دنیا کی بڑی ایکویٹی فرم میں ہونے لگا، جس میں دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کی۔ 2009میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کے عمل میں ابراج نے 1.4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیارات حاصل کئے اور اِسے ایک منافع بخش ادارہ بنایا۔ عارف نقوی پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA)کی مالی معاونت بھی کرتے رہے جبکہ کراچی میں ’’امن فائونڈیشن‘‘ کے نام سے فلاحی ادارہ قائم کیا، جو لوگوں کو جدید ایمبولینسوں کی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی فراہم کر رہا ہے۔ 2011میں حکومت پاکستان نے عارف نقوی کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ اُنہیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن اور انٹرپول فائونڈیشن کے ٹرسٹی بھی رہ چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عارف نقوی کو انٹرپول نے ہی امریکہ کی شکایت پر برطانیہ سے گرفتار کیا اور امریکہ، برطانیہ سے اُن کی حوالگی کا مطالبہ کررہا ہے۔ 

عارف نقوی نے سرمایہ کاری کیلئے ایسے ممالک کو اپنا بزنس ماڈل بنایا، جنہیں مغربی دنیا میں ایمرجنگ مارکیٹ یا بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عارف نقوی کے بقول ایمرجنگ مارکیٹس کی صحت اور خوراک کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اُن معاشروں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اُن کا موقف ہے کہ مغربی سرمایہ کار ایمرجنگ مارکیٹ کو خطرناک قرار دے کر اور اُن ممالک میں سرمایہ کاری نہ کر کے ناانصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ شاید امریکہ اور یورپ کو ایک مسلمان جس کا تعلق پاکستان سے تھا، کی یہ حکمت عملی پسند نہ آئی اور یہاں سے ابراج اور اس کے سربراہ کا زوال شروع ہوا۔ عارف نقوی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اُنہوں نے عالمی بینک اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کی 200ملین ڈالر کی رقم جو ہیلتھ کیئر منصوبوں کیلئے فراہم کی گئی تھی، اس مقصد پر خرچ نہیں کی۔ مغربی طاقتوں کے اس منفی پروپیگنڈے اور بداعتمادی نے ابراج کی ساکھ کو شدید متاثر کیا۔ اس طرح عارف نقوی کی 16سالہ سخت محنت و جدوجہد کے ثمر ابراج جس کی سرمایہ کاری ایک وقت میں 17ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، کے دیوالیہ ہونے میں صرف کچھ ماہ کا عرصہ لگا۔

آج یہ کالم تحریر کرتے ہوئے مجھے معروف پاکستانی بینکر اور BCCIبینک کے سربراہ آغا حسن عابدی مرحوم یاد آرہے ہیں، جنہوں نے 1972میں 2.5ملین ڈالر سے BCCIبینک کی بنیاد رکھی، جس کا شمار مختصر عرصے میں دنیا کے سرفہرست بینکوں میں ہونے لگا۔ بینک کے امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے 72ممالک میں 400دفاتر اور 14,000سے زائد ملازمین تھے، جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی۔ BCCIکے عروج کے وقت اس کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 20ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جو آج تقریباً 50ارب ڈالر بنتے ہیں۔ شاید یورپ اور امریکہ کو ایک مسلمان بینکر کا اتنی بلندی پر پہنچنا، ایک آنکھ نہ بھایا اور اچانک BCCIپر منی لانڈرنگ جیسے الزامات لگا کر اُسے ’’بینک کرپٹ‘‘ قرار دے دیا گیا جبکہ بینک کے اثاثے ضبط کر لئے گئے، نتیجتاً بینک سے منسلک سینئر پاکستانی بینکرز جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے، اُنہیں اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان واپس لوٹنا پڑا۔ مغربی طاقتوں کی یہ خواہش تھی کہ آغا حسن عابدی کو اُن کے حوالے کیا جائے تاکہ پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع میسر آسکے لیکن آغا حسن عابدی خوش قسمت تھے، جو مغربی طاقتوں کی سازشوں سے بچ نکلے اور پاکستان آ گئے۔ آغا حسن عابدی نے زندگی کے آخری ایام بڑی گمنامی میں گزارے اور وہ 1995میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آغا حسن عابدی اور عارف نقوی میں ایک بات مشترک تھی کہ دونوں محب وطن پاکستانی تھے اور اُنہوں نے عالمی سطح پر بینکنگ وسرمایہ کاری میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ چند ماہ پہلے تک عارف نقوی کی کہانی ایک ایسے پاکستانی کی کہانی تھی جو اپنی ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا کے ارب پتیوں میں شمار ہونے لگے تھے اور یورپ وامریکہ کی سرمایہ کار کمپنیوں کیلئے خطرہ بن گئے تھے مگر ایک عرصہ بعد آغا حسن عابدی کے پائے کی کاروباری شخصیت عارف نقوی کو گرفتار کر کے انہیں دنیا کیلئے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ عارف نقوی پر لگائے گئے الزامات میں کتنی صداقت ہے مگر مسلمان اور پاکستان دشمن طاقتوں کا یہ پیغام واضح ہے کہ اگر کسی پاکستانی مسلمان نے اپنی حد اور قد سے بڑھنے اور امریکی و مغربی اداروں کیلئے خطرہ بننے کی کوشش کی تو اُس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا، جو آغا حسن عابدی اور عارف نقوی کے ساتھ کیا گیا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں