آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جدید سائنسی ایجادات نے جہاں انسانی زندگی کو سہل تر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا وہیں کچھ ایجادات کے نقصانات ان کی افادیت پر حاوی نظر آتے ہیں۔ ان اشیا میں سرفہرست پلاسٹک ہے جو ماحول تباہ کرنے والا سب سے خطرناک عنصر ہے۔ چونکہ دیگر اشیا کے برعکس پلاسٹک زمین میں تحلیل ہونے کیلئے 1سے 2ہزار سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اس لئے پلاسٹک کا کچرا طویل عرصے تک جوں کا توں رہتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی و نکاسی آب کے مسائل کے ساتھ ساتھ کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں نہ صرف پلاسٹک سے بنی اشیا کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے بلکہ بیشتر ممالک میں اس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں پلاسٹک (پولی تھین) شاپنگ بیگز کے استعمال اور فروخت پر پابندی یقیناً خوش آئند ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق پابندی کا مقصد ماحول کو صاف رکھنا ہے۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز کی فروخت پر کم سے کم 50ہزار اور زیادہ سے زیادہ 50لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس سے قبل جنوری میں ضلع پشاور میں پلاسٹک شاپنگ بیگز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام شاپنگ مالز کو سات دنوں کے اندر اور میڈیکل اسٹوروں کو پندرہ دنوں میں موجودہ اسٹاک ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سندھ کابینہ نے بھی گزشتہ سال مرحلہ وار پلاسٹک و پولی تھین پر پابندی عائد کی تھی جس کا آغاز سکھر سے ہونا تھا اور بعدازاں اس پابندی کو حیدرآباد، کراچی، میرپور اور لاڑکانہ میں نافذ کیا جانا تھا تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے بعد بھی اس فیصلے پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔ ضرورت ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے باقی صوبے بھی مرحلہ وار پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کریں اور قابلِ تحلیل پلاسٹک، کپڑے اور کاغذ کے بیگ کو فروغ دیا جائے۔ عوام میں شعور بیدار کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ ماحول دشمن پلاسٹک کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں