آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں جاری گیس کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے کیونکہ ایک لاکھ چالیس ہزار کیوبک میٹرز ایل این جی لانے والا الکارنا نامی بحری جہاز گزشتہ دو دن سے کھلے سمندر میں شدید ہوائوں میں گھرا ہوا ہے ۔اس جہاز کو اتوار کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہونا تھا اس کے کپتان نے شدید طوفانی ہوائوں کی وجہ سے آگے بڑھنے سے معذرت کرلی ہے۔ اس سے قبل بھی گزشتہ ماہ17اور 16؍جنوری کو این ایل جی لانے والے الگشامیا نامی بحری جہازکے کپتان نے پورٹ قاسم پر سمندری لہروں میں شدت نہ ہونے کی وجہ سے لنگر انداز ہونے سے انکار کردیا تھا، اس لئے کہ سمندر میں لہروں میں طغیانی کے سہارے ایل این جی لانے والے جہاز ساحل تک پہنچ کر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئے گئے این ایل جی معاہدے میں کنارے کے قریب کئی فٹ تک سطح سمندر گہرا کرنے کی تجویزپر عمل درآمد نہ کرائے جانے کے باعث تیل بردار جہازوں کو ساحل تک پہنچنے کے لئے ہائی ٹائیڈ لہروں کے چڑھائو کا انتظار کرنا پڑتا ہے جس کے باعث کئی مسائل پیدا ہوتےہیں اوراس کامنفی اثرگیس کی فراہمی پر پڑتا ہے،یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر موسمی حالات میں بہتری نہیں آئی تو یہ بحران سنگین صورت اختیار کر لے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت ایل این جی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کرے ، ماضی میں کئے گئے معاہدےکی ہرشرط پر عملدرآمدکرائےاور اگر اس میں کوئی سقم ہے تو اسے دور کیا جائے اس لئےکہ گیس کی عدم فراہمی نے ملک کی معیشت پر خراب اثرات مرتب کئے ہیںاور گھریلو صارفین کے علاوہ صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت ملکی معیشت میں استحکام لانے،بے روزگاری میں اضافے کو روکنے اور عوام کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے لئے گیس کی فراہمی یقینی بنانے اوراس کے نرخ میں کمی لانے کے لئےموثرمنصوبہ بندی کرے جو عوام کی دسترس سے باہرہوتے جا رہے ہیں۔


اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998