آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیروزگاری عہد حاضر کی ایک تلخ ترین حقیقت ہے جس سے ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی دوچار ہیں، پچھلی ایک دہائی کے دوران امریکہ، برطانیہ اور جرمنی جیسے تگڑی معیشت کے حامل ممالک تک میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ بے روزگاری کے باعث ان ممالک کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو رہے ہیں بنیادی وجہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور وسائل کی کمی ہے۔ بیروزگاری معیشت کے استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دی جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو گا۔ لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری کی شرح میں معمولی کمی ضرور آئی ہے لیکن ناقابل تشفی۔ وفاقی حکومت کی طرف سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے ادارے سمیڈا کے تعاون سے کامیاب جوان پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے شعبے کے ذریعے روزگار کے 10لاکھ مواقع پیدا کرنا ہے، امور نوجوان ادارے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس پروگرام میں سمیڈا مقامی اور بین الاقوامی منڈی میں کاروبار کے بہترین مواقع تلاش کرے گا۔ نوجوانوں کو تکنیکی اور فنی تعلیم کی بہتری کے لئے وزیراعظم کا نوجوانوں کے امور کا شعبہ مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ کوئی شک نہیں کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ (سمیڈا) کے تعاون سے نجی

شعبہ کو ترقی دے کر ملکی معیشت کے استحکام اور بیروزگاری میں کمی کے موثر اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 1998میں سمیڈا کے قیام کے مقاصد ہی یہی تھے لیکن اس ضمن میں موثر اقدامات نہ ہونے پائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں ملازمتیں پیدا کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے نوکریاں محدود تعداد میں پیدا کی جا سکتی ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بے شمار ہیں۔ اس کیلئے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ اسے سہولیات بہم پہنچا کر سرکاری عمال کی مداخلت سے محفوظ بنانا ہو گا۔ ایسا پورے ملک میں شروع ہو گیا تو 10لاکھ کیا روزگار کے ایک کروڑ مواقع کا ہدف بہ آسانی حاصل ہو سکتا ہے۔