آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍جمادی الاوّل 1440ھ 21؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

باہر دو دنوں سے وقفے وقفے سے برستی بارش، برفیلی ہوا، دھند نما بادلوں میں اٹکا موسم، درخت، پودے، پھول، سبزہ، عمارتیں سڑکیں، سب کچھ بھیگا بھیگا، جبکہ اندر کمبل، ہیٹر، چائے اور کتابیں، ایسے موسم اور ماحول میں ’سرکسی سیاست‘ اور مخولیے احتساب پر لکھنا تو ایسے ہی جیسے ان دنوں اسد عمر کی تعریف کر دینا یا جیسے عمران خان کے سامنے یوٹرن کی بدتعریفی کرنا، اوپر سے سیاست بھی یہیں پھنسی ہوئی کہ نواز، شہباز باہر آ رہے یا نہیں، زرداری اینڈ کمپنی اندر جا رہی یا نہیں، کل والے زیادہ کرپٹ تھے یا آج والے زیادہ نالائق اور اوپر سے غضب ڈھاتا مخولیا احتساب، نواز شریف صاحب گھر کی بنی مچھلی، سبزیاں اور گاجر کے حلوے کھاتے ٹھنڈے کمرے میں نیم گرم ہیٹر کے ساتھ جڑ کر غالب ؔاور اقبالؔ پڑ ھ رہے، جبکہ کوٹ لکھپت کے قیدی شہباز شریف صاحب منسٹر کالونی کے بنگلے میں لیٹے کمر درد اور سوجی ٹانگوں کی فزیو تھراپیاں کرا رہے اور نیب کے قیدی سعد رفیق کی شکایتیں یہ، باتھ روم کی کنڈی نہیں، مجھے فلاں دن کھانے میں کچا انڈا اور ٹھنڈے سلائس ملے، لہٰذا آج سیاست پر وقت ضائع کرنے کی بجائے حاضر چند جوکیلی باتیں، کچھ ٹھنڈی جگتیں اور دو چار نیم مردہ لطیفے، کچھ اچھا لگے تو مہربانی، اچھا نہ لگے تو ڈبل مہربانی۔بابا سیانا کہے، محبت ہو جائے تو صدقہ دینا شروع کر دیں، محبت ہو گی تو مل جائے گی، بلا ہوئی تو ٹل جائے گی۔ بابا جی فرمائیں، ہمیشہ ایک ہاتھ میں مکھن اور دوسرے میں ہاتھ میں چونا رکھیں، موقع کی مناسبت سے لگاتے جائیں، کامیابی قدم چومے گی۔ بابا جی ہی کا فرمان کہ اب تو تھپڑ کی زبان پاکستانی بچوں اور ٹی وی ریموٹ کو ہی سمجھ آتی ہے۔ ایک دن بابا جی سے پوچھا ’’حضور موقع کسے کہتے ہیں‘‘ مسکرا کر بولے ’’جب مچھر بیوی کی گال پر بیٹھا ہو‘‘۔ بابا جی کا ہی کہنا ’’ہمیشہ مسکراتے رہا کرو تاکہ دنیا کنفیوژ رہے کہ تمہیں خوشی کس بات کی‘‘۔

چاہے جتنا مرضی پانی بچا لو، جس نے نہیں نہانا، اس نے نہیں نہانا اور چاہے جتنے مرضی ڈیم بنا لو مگر وہ تیسری جماعت والا کوّا پیاسا ہی رہے گا۔

اب تو شوگر کی بیماری اتنی زیادہ ہو گئی کہ ڈر کے مارے لوگوں نے میٹھا کھانا پینا کیا، میٹھا بولنا بھی چھوڑ دیا۔

اچھی بیوی وہ جو شوہر کو اچھی طرح پریشان کرے اور بری بیوی وہ جو شوہر کو بری طرح پریشان کرے۔

بعض خاوند اپنی بیویوں کو بے پناہ چاہتے ہیں اور بعض تو بس پناہ چاہتے ہیں۔

ہوٹل میں کھانے کے بعد اٹھتے ہوئے بیوی نے جب کہا ’’جانو ویٹر کو Tipتو دیدو تو شوہر نے ویٹر کو پاس بلا کر کہا ’’شادی نہ کرنا‘‘۔

بیوی نے لاڈ بھرے انداز میں شوہر سے کہا ’’شادی کیا ہوئی، آپ نے تو مجھے پیار کرنا ہی چھوڑ دیا‘‘ شوہر کا جواب تھا ’’ارے پگلی امتحان ختم ہونے کے بعد بھلا کون پڑھتا ہے‘‘۔

کھانا کھاتے شوہر نے بیوی سے پوچھا ’’اتنے کم وقت میں اتنی مزے کی چٹنی کیسے بنا لیتی ہو‘‘ بیوی بولی ’’بس چٹنی بناتے وقت آپ کو دھیان میں لے آتی ہوں‘‘۔الزام تراشی کی انتہا، بیگم شوہر سے بولی، یہ کیسا آٹا اٹھا لائے، میری تو ساری روٹیاں ہی جل جاتی ہیں۔

سردار کو پھانسی کی سزا سنا کر جب جج نے پوچھا ’’کوئی آخری خواہش‘‘ تو سردار بولا ’’میری جگہ تُسی لٹک جاؤ‘‘اتنا پیسہ کماؤ کہ چلغوزے سستے لگنے لگیں اور اتنا حوصلہ بڑھاؤ کہ چلغوزے مہمانوں کے سامنے رکھتے ہوئے موت نہ پڑے۔ حوصلے سے یاد آیا حوصلہ سیکھنا ہے تو پریشر ککر سے سیکھو، آگ پر بیٹھا سیٹیاں بجا رہا ہوتا ہے۔مجھے پطا ہے کہ میری عنگلش اچھی ہے لیکن شقر ہے اب عردو پر بھی مجھے قافی ابور ہاسل ہے (یہ بلاول بھٹو نے نہیں کہا)

فزکس کتنی آسان ہو جاتی اگر سیب زمین پر گرنے کی بجائے سیبوں کا درخت نیوٹن پر گر جاتا۔

اپنے حالات کا سوچ کر وہ شیخ یاد آئے جس نے گھر کی الماری میں دیسی گھی کا ڈبہ رکھا ہوا تھا، گھر والوں کو ڈبہ کھولنے کی اجازت تو نہ تھی ہاں البتہ کھانے کے وقت شیخ صاحب اتنی اجازت ضرور دیدیتے کہ گھر کا ہر فرد گھی کے ڈبے کے ساتھ اپنی روٹی رگڑ لے، پھر پرانے پاکستان کا خاتمہ ہوا، نیا پاکستان بنا، مطلب شیخ صاحب فوت ہوئے تو گھر کی معیشت اسد عمر، اوہ سوری! شیخ صاحب کے بڑے بیٹے کے ہتھے چڑھی، موصوف نے اگلے ہی دن سب گھر والوں کو اکٹھا کیا، گھی والے ڈبے کی الماری کو تالہ لگایا اور کہا آج سے اپنی روٹی تالے سے رگڑ کر کھائیں، ہن ابا جی والیاں موجاں ختم۔

اپنے نظام انصاف کا سوچ کر جنگل کی وہ بھینس یاد آجائے، جسے ایک دن گھبراہٹ میں بھاگتے دیکھ کر چوہے نے پوچھا، بہن خیر تو ہے، بھینس بولی، جنگل میں پولیس آئی ہوئی ہاتھی پکڑنے کیلئے، چوہا حیران ہو کر بولا ’’پولیس ہاتھی پکڑنے آئی ہے اور بھاگ تم رہی ہو‘‘ بھینس نے کہا ’’میرے معصوم بھائی، یہ جنگل پاکستان کا، یہاں پکڑی گئی تو 20سال یہ ثابت کرنے میں لگ جائیں گے کہ میں بھینس ہوں ہاتھی نہیں‘‘ یہ سن کر چوہے نے کہا ’’اوہ تیری… ‘‘ اور اس نے بھی بھینس کے ساتھ دوڑنا شروع کر دیا۔معیشت کی بہتری کیلئے مفتاح اسماعیل یا اسحاق ڈار سے مشورے لینا یا پیپلز پارٹی، لیگیوں سے تجاویز مانگنا ایسے ہی جیسے ملیریا کا علاج مچھر سے کروانا۔

ایک شیخ نے عربی کو خون دے کر اس کی جان بچائی تو عربی نے اسے قیمتی کار اور کجھوریں گفٹ کیں، کچھ عرصہ بعد عربی کو پھر خون کی ضرورت پڑ گئی، شیخ نے خوشی خوشی پھر اسے خون دے دیا لیکن اس بار جب عربی نے کجھوروں کا ایک پیکٹ گفٹ کیا تو شیخ تلخ لہجے میں بولا ’’اس بار صرف کھجوریں‘‘ عربی بولا ’’شیخ صاحب! اب میری رگوں میں بھی آپ کا ہی خون دوڑ رہا ہے، اب کھجوروں پر ہی گزرا کرو‘‘۔

پرانے لوگ وضعدار تھے، تعلق نبھاتے تھے پھر لوگ پریکٹیکل ہوئے، تعلق سے فائدے نکالنے لگے، اب لوگ پروفیشنل ہو چکے، کوئی فائدہ ہو تو تعلق رکھتے ہیں۔وہ پوچھنا یہ تھا کہ اگر نکاح کے وقت گواہ نہ ملے تو وطن کی مٹی گواہ ہو سکتی ہے؟

ماٹھی شکلوں والے دوست بنانے کا ایک فائدہ یہ بھی کہ سیلفی میں آپ ہی پیارے لگتے ہیں۔

گزرے 70سال بتائیں، پاکستان کا سیاسی نظام دو طرح کا، ملٹری ڈکٹیٹر شپ اور سول ڈکٹیٹر شپ، ملٹری ڈکٹیٹر شپ کو مارشل لا کہا جائے جبکہ سول ڈکٹیٹر شپ کو جمہوریت کے نام سے جانا جائے اور 70سالوں بعد ہمارے ہاں اب دو قومی نظریے سے مراد عوام اور حکمراں، دونوں علیحدہ علیحدہ طبقے، دونوں کا رہن سہن، تہذیب، مذہب اور تاریخ سب کچھ جدا جدا۔

اپنی قابلیت اتنی بڑھاؤ کہ تمہیں ہرانے کیلئے لوگ کوششیں نہیں، سازشیں کریں۔

اپنی ایک مشہور و معروف یونیورسٹی میں ایم بی اے کے انٹری ٹیسٹ دینے آئے اسٹوڈنٹ نے یونیورسٹی کلرک سے پوچھا ’’یہ یونیورسٹی کیسی ہے‘‘ کلرک بولا ’’بہت اچھی ہے، میں نے خود ایم بی اے یہیں سے کیا ہے‘‘۔

آخر پر استاد مکرم حسن نثار کے چند جملے ’’یہ کیسے ممکن کہ جہاں کرنسی ڈی ویلیو ہو وہاں انسان کی ویلیو ہو، نئے پاکستان والوں سے گزارش مہنگائی ابھی وارم اپ موڈ میں یا یوں کہہ لیں گہری نیند سے بیدار ہو کر پہلی انگڑائی لے چکی، اصل مہنگائی کو تو ابھی آنا ہے، لہٰذا دعائیں اور بدعائیں سنبھال کے رکھیں، یہاں سیاست سے بڑا منافع بخش کوئی کاروبار نہیں اور ہمارے تمہارے خون کا سوپ ہمیشہ سے جمہوریت کیلئے اکسیر رہا ہے‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں