آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملکی درآمدات و برآمدات میں پایا جانے والا عدم توازن اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ غیر ملکی قرضوں کی عدم ادائیگی سے یہ بوجھ بڑھ کر 28ہزار ارب روپے تک پہنچ جانا، مزید برآں قومی آمدنی کا بڑا حصہ ان قرضوں پر واجب الادا سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جانا، یہ تمام عوامل قومی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2019ء میں اگر ایک طرف جنوبی ایشیا کے پورے خطے کی مجموعی جی ڈی پی میں نمو کی شرح بڑھ کر 7.1فیصد تک پہنچ رہی ہے تو دوسری طرف یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ انفرادی طور پر پاکستان کی اقتصادی ترقی کی یہ شرح دیگر پڑوسی ممالک کی طرح بڑھنے کی بجائے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.8فیصد سے کم ہوکر 3.7فیصد ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو ہمارے اقتصادی حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں سال 2019میں بھارت کی ترقی کی شرح 7.3، بنگلہ دیش7، سری لنکا4 اور نیپال کی یہ شرح 5.9فیصد ہونے کی توقع ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو گزشتہ 71برس میں جی ڈی پی کی سب سے کم شرح 1997ء میں ایک اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ زیادہ سے زیادہ شرح اب تک 1970ء میں 11.35فیصد ہوئی۔ 2010ء کے بعد سے جی ڈی پی کی شرح جو 1.61تھی اور پھر سال بہ سال بتدریج بڑھتی ہوئی 2018میں 5.58فیصد رہی، تاہم اس کے اگلے ہی سال اسے گر کر 3.37پر نہیں آنا چاہئے۔ حالات میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے اقتصادی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں، خطے اور معاشی استحکام کے حامل ممالک کے تجربات اور طرزِ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے نئی سفارشات تیار کی جائیں اور ان کی روشنی میں نئی ترجیحات کا تعین کیا جائے؛ تاہم ٹھوس نتائج تبھی حاصل کئے جا سکتے ہیں جب ملک کو کرپشن کی لعنت سے ہمیشہ کیلئے نجات دلائی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں