آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہر سال پانچ لاکھ پاکستانی ٹی بی کے موذی مرض کا شکار بن جاتے ہیں جبکہ ایک لاکھ چالیس ہزار مریض ایسے ہیں جو اس مرض کی تشخیص سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال عدم آگہی کے باعث بھی ممکن ہے اور آگاہ ہوتے ہوئے وسائل میسر نہ آنا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے، تاہم یہ وہ افراد ہیں جو ملک میں ٹی بی کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ ٹی بی ایک سے دوسرے انسان کو نہایت خاموشی سے منتقل ہونے والی بیماری ہے، عدم آگہی کی وجہ سے عموماً اس مرض کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے۔ صحت عامہ کے فعال اور مستعد نظام اور جدید خطوط پر گامزن ہو کر لوگوں کو اس مرض سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق اداروں کے توسط سے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی فعال ہے، تاہم اندرونِ ملک جملہ فریقوں کی مکمل شمولیت کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ وطن عزیز کی 40فیصد آبادی غربت کا شکار ہے جبکہ یہ بیماری زیادہ تر غذائیت کی کمی کے مارے لوگوں پرحملہ آور ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی مرض ہے اور اس کا وجود بھی پاکستان میں دائمی حیثیت اختیار کر چکا ہے جو قیام پاکستان کے قبل سے یہاں موجود ہے۔ اس سے بچائو کی ویکسین عام اور مفت ہونے کے باوجود اس کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 16لاکھ اور غیر رجسٹرڈ کی تعداد آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ غربت، تنگدستی، تنگ و تاریک ماحول، غذائیت و پروٹین کی کمی اس کے اہم اسباب ہیں۔ ان حالات میں سگریٹ نوشی جلتی پر تیل کا کام دیتی ہے۔ وزارت صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایک ٹھوس اور مربوط لائحہ عمل کے تحت کثیر الجہتی پروگرام شروع کرنا چاہئے، ملک کے کونے کونے تک اس پروگرام کے توسط سے غیر رجسٹرڈ مریضوں کو رجسٹرڈ کر کے ان کا علاج معالجہ کیا جائے اور لوگوں کو صحت و صفائی اور غذائیت کی سہولیات کی سرکاری نگرانی میں فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں