آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعظم سواتی کا اپنے وزارتی عہدے سے استعفیٰ دیا جانا جمہوری روایات کا حصہ ہے۔ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے کسی نزاعی معاملے میں ملوث ہونے کی صورت میں ان کے مستعفی ہونے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جب متعلقہ فورموں سے اپنے بے قصور ہونے کی سند حاصل کرکے عوام میں آتے ہیں تو ان کے وقار و احترام میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ قبل ازیں بھی وفاق میں موجودہ برسر اقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے بابر اعوان حکومتی اثر و رسوخ سے باہر رہ کر اپنی پوزیشن صاف کرنے کیلئے مشیر برائے وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ اعظم سواتی پر اپنے پڑوس میں رہنے والے مفلس و غریب الدیار افراد کے ساتھ زیادتی آمیز طرزِ عمل اختیار کرنے اور اسی باب میں مبینہ ٹیلیفون کال پر دھیان نہ دینے والے پولیس افسر کے تبادلے کے حوالے سے الزامات ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا، جوائنٹ انویسٹی گیش ٹیم کی تفتیش اور قانونی ماہرین کی آراء اور معاملہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت زیر غور لائے جانے کے امکانات سامنے آنے سے دو ہفتے پہلے ان کا مستعفی ہونے کا ارادہ بہت ہی مناسب تھا مگر اب بھی مذکورہ فیصلے سے وطن عزیز میں احتساب کی روایت کو خوشدلی سے قبول کرنے کے نئے رجحان کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ہمارے ماضی

میں ایسی کہانیاں مشہور ہیں جن کے تحت سنگین مقدمات سے بچنے کیلئے وزارتوں میں شمولیت اختیار کی گئی یا اثر و اختیار کو استغاثہ کا کیس کمزور کرکے کلین چٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ جبکہ عدلیہ کے نوٹس لینے یا طاقتور عنصر کی سزا یابی کی صورت میں کمزور فریق سے جبری یا غیر جبری صلح کا نسخہ بھی تیر بہدف ثابت ہوتا رہا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وطن عزیز میں قانون کی بالادستی، احتساب اور بلا امتیاز انصاف کی روایت مزید پروان چڑھے گی۔ پچھلے عشروں کے دوران ہر قانونی، شرعی اور اخلاقی پابندی سے بالاتر ہوکر کھلے بندوں من مانی کرنے کا جو رجحان پھیلتا نظر آیا، اس پر خود احتسابی اور رضا کارانہ استعفوں کے ذریعے بند باندھنے کا سلسلہ آگے بڑھنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں