آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھونس یاجبر کی مخالفت شاید درویش کے خون یا گھٹی میں ہے بچپن کی جتنی بھی یادیں کریدی ہیں اُن میں ہمیشہ جبر سے لڑائی ہی نظر آئی۔زندگی بھر کے لیے دکھوں اور مصیبتوں کو سینے سے لگا لیا لیکن جبر کو قبولنے سے انکار کر دیا۔ ذرا ہوش سنبھالا تو دو طبقات کو فکری و نظری طو رپر باہم دست و گریبان پایا، ایک طرف سرخ سویرے کا پرچم تھامے کامریڈتھے جو اپنے حالات کی مطابقت میں دل و دماغ کے قریب تر لگے دوسری طرف سرمایہ داری کے حاملین مغربی جمہوری نظام کے علمبردارتھے۔ بظاہر فیصلہ مشکل تھا کہ تجھ سے ملوں یا ملے بن چلا جاؤں۔دل سے آواز آئی ’’اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔۔۔ کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دو‘‘ کبھی یہ گنگنایا کہ جس کھیت سے دھکاں کو میسر نہ ہو روزی۔۔۔ اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔ ’’میں ناخوش وبے زار ہوں مر مر کی سلوں سے۔۔۔ میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو‘‘، ’’تو قادر و عادل ہے مگرترے جہاں میں۔۔۔ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘۔ کا رل مارکس کی داس کیپٹیل میں وہ سحر تھا جو ساحر لدھیانوی کی تلخیوں تک لے گیا ’’اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر۔۔۔ ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق‘‘ پھر ہر امارت،خلافت اور بادشاہت بری لگی کہ اُن سب کی سرشت میں جبر تھا۔پھر ہر باغی ہیرو لگا کہ اس میں جبر کے خلاف کھڑے ہونے کا یارا ہے۔ میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح، تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو ۔۔۔پھر وہ بکھرے بالوں اور الجھی داڑھی والا چاروں صاحبان جیسا اونچا دکھائی دیا جواپنا آپ منوا کر گیا لیکن نہیں، شعور نے رہنمائی کرنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کی فوری ردِ عمل آیا’’ پر یت ہے جھوٹی پریتم جھوٹا، جھوٹی ہے ساری نگر یہ‘‘۔ کارل مارکس جیسی عظیم الشان ہستی کے آدرشوں پر اتنے بڑے انقلابی لینن نے جو ریاست نہیں ایمپائر قائم کی اُس سوویت یونین کے خمیر میں جبر ایسا رچا بسا کہ وہاں تو جمہوریت چھوڑ آزادیٔ اظہار کا بھی کہیں گزر بسر نہیں تھا۔سو اس طلسم کدہ یا غرباء کے دیرو حرم میں گھسنے سے پہلے ہی قدم رک گئے، رستے بدل گئے، اُن غنچوں کے کھلنے کی حسرت تک نہ رہی جن کے کھلنے سے پہلے خزاں آگئی، لمحے بھر کی ایک جھلک نے وہ قصہ تمام کر دیا جس پر سہانے خواب دیکھنے اور دکھانے والے اپنی زندگیاں نچھاور کر رہے تھے۔

شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال نے مغرب اور مغربی تہذیب میں بڑے بڑے کیڑے لیکن شعور نے روزِ اول یہ کہا کہ اگر کوئی احمقوں کی جنت میں بستا ہے تو ایسی جنت انہیں مبارک۔ ’’جس کا عمل ہوبے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے۔۔۔ حورو خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر‘‘۔ تمام تر معاشقوں کے باوجود شعور نے واضح کیے رکھا کہ اگرچہ ’’تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول۔۔۔ لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول‘‘۔ شعور کے بالمقابل اقبال کے جنوں سے ہمیشہ معذرت چاہی جس نے اتنی دہائیوں سے پوری قوم کو جکڑ رکھا ہے۔

بہرحال بات شروع ہوئی تھی جبر کے بالمقابل فکری و شعوری آزادیوں سے کہ نوعمری میں ہی ہم نے اپنے تمام کامریڈ کھو دیئے کہ جس طرح روشنی اندھیرے کے ساتھ زیادہ دیر نبھا نہیں کر سکتی اسی طرح حریتِ فکر پر ایمان رکھنے والا جبری قوتوں کے ساتھ زیادہ لمحات نہیں گزار سکتا۔ وہ جبر سرخ ہو یا سبز یا کسی بھی مقدس رنگ روپ میں آئے، ہم ہمیشہ اس سے دور رہیں گے اس کے بعد، میرؔ صاحب کا دین و مذہب کیا پوچھتے ہو؟ اسکول کے دوران ہی یعنی میٹرک کرنے سے بھی قبل لب پر یہ تمنا دعا بن کر آنے لگی کہ سوویت یونین جیسی ایمپائر بلکہ پریذیڈنٹ ریگن کے الفاظ میں ’’شیطانی ریاست‘‘ کا خاتمہ بالخیر کب ہو گا؟ مغربی جمہوریت پر ہمارے عقیدت پسندوں کے ایک سو ایک اعتراضات بے جان مغالطے ہی نہیں بلکہ متعصبانہ ذہنیت کے غماض دکھائی دینے لگے۔ تحریک خلافت کے علمبرداروں نے چند لمحے ملّی تعصب کے خوابوں میں جکڑا لیکن شعوری مطالعہ نے جلد ان زنجیروں کو توڑ ڈالا لیکن افسوس اپنے نونہالانِ قوم کو فکری جمود کی سختیوں سے آزادیاں دلانے کے لیے درویش آج بھی اسی طرح سرگرداں ہے مگر کوئی امید بر نہیں آتی۔

ابھی جبر کی جو نئی وحشت تقدس کے لبادے میں اس قوم پر چھائی ہے اس نے تو تمام اگلے پچھلے کھاتے پورے کر دیئے ہیں۔ اس جبر کی دہشت سے حریت بی بی کا دم گھٹ رہا ہے، پورے ملک میں کوئی ایک گوشہ نہیں ہے جہاں وہ جان کی امان پائے، چھپ کے بیٹھ ہی سکے۔ دوست دوستوں سے انسانی آزادی و وقار پر بات کرتے ہوئے ڈر رہے ہیں، سب اپنے گھروں میں بھی یوں سہمے اور دبکے ہیں کہ کب انہونی ہونی کا روپ دھار لے۔ اس فکری جبر نے حریتِ فکر تو دور کی بات، آزادیٔ اظہار کو بھی زخموں سے چور کر دیا ہے۔ اتنی گھٹن میں تخلیقی اذہان اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ اسی مسموم فضا میں جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ وجہ بیان کرو کہ ہماری قوم سے اچھے تخلیق کار کیوں نہیں اٹھ رہے؟ نئی ایجادات کے حوالے سے سوال اٹھایا جاتا ہے کہ وہ تمام کی تمام غیر مسلموں کی مرہونِ منت کیوں ہیں؟ اپنی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کسی ایک قابلِ التفات کامرانی کی نشاندہی فرما دیں جس کی ایجاد ہمارے لوگوں نے کی ہو؟

اے میری قوم کے دانشورو، شاعرو، ادیبو، صحافیو، لکھاریو آؤ! اس ایک نکتے پر ایکا کرو کہ ہم جبر کو کسی بھی مقدس یا غیر مقدس لبادے یا رنگ روپ میں قبول نہیں کریں گے۔ مہذب اسلوب میں اپنی بات کہنے کی آزادی یہاں جس طرح مقدس لوگوں کو حاصل ہے اسی طرح غیر مقدس لوگوں کو بھی حاصل ہوگی۔انسانی جان کی حرمت سے بڑھ کر کائنات میں کوئی نظریہ نہیں ہے۔ جو انسانی عظمت و وقار کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا اس ظالم کو اسی سوسائٹی میں رائندۂ درگاہ بنانے کے لیے یک آواز ہو جاؤ۔ جو کسی بھی مقدس نظریے کے نام پر ہماری سوسائٹی میں انارکی پھیلاتا ہے انسانی جان و مال آبرو، وقار اور املاک پر حملہ آور ہوتا ہے لوگوں کو جذباتیت پر ابھارتاہے یا اختلافی فیصلہ آنے پر حملہ آور ہونے کے لیے اکساتا ہے، ہم سب ایسی تجاوزات کے خلاف یک آواز ہوں گے۔ ہمیں جبری ہتھکنڈوں سے اپنی عزت نہیں کروانی ہے، جبر سے کروائی گئی عزت دنیا میں کچھ وقعت نہیں رکھتی ہے۔ عزت و حرمت ہوتی ہی وہ ہے جو دلوں سے پھوٹتی اور شعوری عظمتوں میں پروان چڑھتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں