آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ نے بلدیہ حیدرآباد کی ریٹائرانسٹرکٹر اورکینسر کی آخری اسٹیج کی مریضہ کی جانب سے گذشتہ 12سال سے تنخواہ کی عدم ادائیگی اور ریٹائرمنٹ کے واجبات ادا نہ کرنے کے خلاف دائر براہ راست درخواست پر میئر حیدرآبادمیونسپل کمشنر، اکاوئنٹنٹ اورآڈیٹر بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کوطلبی اور وضاحت کے نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہونے پر خاتون کی درخواست کو پٹیشن میں تبدیل کر کے میونسپل کمشنر، اکاوئنٹنٹ اورآڈیٹر بلدیہ حیدرآباد کو 8مارچ کو ریکارڈسمیت ذاتی طورپر پیش ہونے کاحکم دیاہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں مارکیٹ ٹاور کے علاقے کی رہائشی مسماتعذرا بیگم کی جانب سے دائربراہ راست درخواست میں کہاگیاتھا کہ وہ بلدیہ حیدرآباد کے زیرانتظام اسکول میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے 2014میں ملازمت سے ریٹائرہوگئی تھی جبکہ اس سے قبل اسے 10سے12سال کے عرصہ کے دوران تنخواہ ادا نہیں کی گئی، ریٹائرمنٹ کے بعداس نے واجبات کی ادائیگی کے لئے درخواستیں دیں مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ درخواست گذارنے کہا کہ وہ کینسر کی مریضہ ہے اورمرض اپنی آخری اسٹیج پر ہے ،بلدیہ حیدرآباد کے افسران کو اس کے واجبات ادا کرنے کاحکم دیاجائے،عدالت نے درخواست پر گذشتہ

دوسماعتوں میں نوٹس جاری کرکے میئر حیدرآباد،میونسپل کمشنر،اکاوئنٹنٹ اورآڈیٹر سے جواب طلب کئے تھے لیکن کوئی جواب نہیں دیاگیا،گذشتہ سماعت میں عدالت نے جواب نہ دینے پر بلدیہ حیدرآباد کے نامزد افسران سے وضاحت طلب کی تھی لیکن اس کو بھی ہوا میں اڑا دیاگیا،جسٹس عبدالمالک گدی نے پیر کو عذرا بیگم کی براہ راست درخواست کو آئینی پٹیشن میں تبدیل کرنے کاحکم دیتے ہوئے میونسپل کمشنر،اکاوئنٹنٹ اورآڈیٹر بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کو 8 مارچ کو ذاتی طورپر ریکارڈسمیت پیش ہونے کاحکم دیدیاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں