آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے احکامات پر سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 2 کا پبن تھانے پر چھاپہ، غیر قانونی طور پر گرفتار نوجوان بازیاب، تفتیشی آفیسر کو ریکارڈ سمیت آج سیشن جج کے سامنے پیش ہونے کا حکم، بازیاب ہونے والے نوجوان کو رہا کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سیشن جج حیدرآباد کی عدالت میں گوٹھ حاجی آبن تعلقہ حیدرآباد کے رہائشی غلام حیدر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس کا بھتیجا 24 سالہ غلام حسین 3 مارچ کو اپنی زمینوں پر گیا تھا جہاں کچھ افراد مسمات الہانی کو زمین پر قبضے کی کوشش کے معاملے پر تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ بدسلوکی کررہے تھے، غلام حسین کے روکنے پر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے، غلام حسین اسپتال سے علاج کے بعد تھانے رپورٹ کرانے گیا تو پبن پولیس نے کیس درج کرنے سے انکار کردیا اور الٹا اسے گرفتار کرکے لاک اپ میں قید کردیا، رہائی کے لئے 5 لاکھ روپے رشوت طلب کی۔ درخواست گزار کی استدعا پر سیشن جج حیدرآباد نے پیر کو سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 2 عبدالرقیب تنیو کو ریڈ کمشنر مقرر کرکے پبن تھانے پر چھاپہ مارکر غیر قانونی طور پر گرفتار نوجوان کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات پر ریڈ کمشنر نے چھاپہ مارکر تھانے کی

تلاشی لی تو غلام حسین لاک اپ میں قید تھا، تھانے پر تعینات ڈیوٹی آفیسر گرفتاری کا کوئی ریکارڈ یا ایف آئی آر پیش نہ کرسکا، ریڈ کمشنر کو ڈیوٹی آفیسر نے بتایا کہ غلام حسین کو میڈیکل لیٹر دینے کے لئے صبح بلوایا تھا جبکہ بازیاب ہونے والے غلام حسین کا کہنا تھا کہ اسے گذشتہ رات سے لاک اپ میں قید کیا ہوا تھا اور رہائی کے لئے میرے سامنے میرے والدین سے بھاری رقم طلب کی گئی، ریڈ کمشنر نے بازیاب ہونے والے نوجوان کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے تھانے کے تفتیشی آفیسر کو آج (منگل) کو ریکارڈ سمیت سیشن جج حیدرآباد کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں