آپ آف لائن ہیں
جمعہ 7؍ شوال المکرم 1439ھ 22؍ جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ہمارا دوست شرمندگی سی محسوس کرنے لگا تھا۔ کیونکہ ہمارے دوست کا صاحبزادہ جس طرح اپنے والد کو جواب در جواب دے کرگیا تھا،اسے سب نے ہی محسوس کیا تھا اور اپنے بیٹے کے رویہ پروہ خاصہ شرمندہ ہورہا تھا ۔ لیکن میری سوچ مختلف تھی۔میرے خیال میں ہمارے دوست کا صاحبزادہ درست کہہ رہا تھا ۔یہ بات بھی کسی حد تک درست تھی کہ اس کا لہجہ اور انداز گفتگو درست نہ تھا۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ نہ صرف یہ کہ ہمارے دوست کا طریقہ کار غلط تھا بلکہ اکثر والدین اپنے بچوں کو یوں ہی پریشر کا شکار بنا کرانہیں بغاوت پر اکساتے ہیں۔ اس لیے میں تو مکمل طور پر اپنے دوست کے بیٹے سے اتفاق کررہا تھا ،بلکہ چند روز قبل میں نے سوشل میڈیا پر بھی یوتھ سے ایک سوال کیا کہ وہ کیا تعلیم حاصل کرناچاہتے ہیں ؟اور کس شعبہ میں اعلیٰ تعلیم کے ذریعے وہ اپنا فیوچر تلاش کرناچاہتے ہیں؟ تو مجھے ایک رات میں تقریباً چھ ہزار سے زائد بچوں کے جوابات آئے اور تقریباً 99 فیصد بچے نہ صرف کنفیوژ تھے بلکہ سخت پریشر کا بھی شکار تھے۔ کیونکہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں اور انہیں آگے جا کر کیا کرناچاہیے یا کون سا شعبہ ان کے لیے بہتر ہوگا بچوں کی اکثریت فزکس ،کیمسٹری اور میتھ سے سخت الرجک تھی بلکہ وہ ان مضامین کے لئے نفرت تک کے

x
Advertisement

الفاظ استعمال کرتے تھے ۔لیکن ان بچوں کے والدین انہیں اسی شعبہ میں بھیجنے پر مصر تھے ،جن شعبہ جات کے لئے فزکس کیمسٹری اور میتھ پڑھنا ضروری ہے بلکہ ان مضامین میں بہت اچھا ہونا بھی ضروری ہے۔ بہت سارے بچوں کا خیال تھا کہ والدین انہیں ایک اچھا سا کوچ رکھ دیں اور وہ بس کرکٹ کھیلتے رہیں اور ایک معروف کرکٹر بن جائیں ایسے بچوں کی تعداد بھی کم نہ تھی جو ماڈلنگ اور شوبز کے دیگر شعبوں میں نام کماناچاہتے تھے ۔کئی ڈرامہ اور فلم بنانے میں مقام حاصل کرناچاہتے تھے۔کچھ بزنس بھی پڑھنا اور کرناچاہتے تھے۔لیکن ان سب میں جو بڑی تعداد تھی وہ بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانا تھا اور انہیں یہ گائیڈ لائن چاہیے تھی کہ انہیں ان ممالک کا ویزہ کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ اوراسکے لئے انہوںنے کسی خاص شعبہ کو فوکس بھی نہیں کررکھا تھا بلکہ ان کا خیا ل تھا کہ غیر ملکی یونیورسٹی کے جس شعبہ میں بھی داخل مل گیا وہ پڑھ لیںگے۔ میں فرداً فرداًسب کے جواب تو نہیں دے سکتا تھا ۔اس لیے اجتماعی طورپر جواب دیئے تاہم کچھ بچوں سے انفرادی طورپر بھی بات چیت کی۔اور مجھے اس امر پر بہت افسوس ہوا کہ بعض کے پاس سرے سے کوئی گائیڈ لائن ہی موجود نہیں اور کچھ پر ان کے والدین کی طرف سے سخت دبائو ہے کہ والدین انہیں اپنی مرضی کا شعبہ اپنانے کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں ۔ اپنے دوست کے گھر بیٹھے بھی باپ بیٹے میں ،ہم دوستوں کی موجودگی میں اس دبائو پر بحث کے دوران بدمزگی پیدا ہوئی تھی۔ہمارے دوست کا خیال تھا کہ اس کا بیٹا بزنس ایڈ منسٹریشن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے جبکہ ہمارے دوست کا بیٹا شعبہ صحافت میں جاناچاہتاتھا۔ہمارے دوست کا کہنا تھا کہ شعبہ صحافت میں ہماری فیملی میں کسی کا کوئی تجربہ نہیں یہ شعبہ ہمارے لئے بالکل نیا ہے اور ویسے بھی شعبہ صحافت میں ہر کوئی نام پیدا نہیں کرسکتا۔جبکہ بزنس میں بہت زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ہمارا خاندانی بزنس ہے ، میرا بیٹا اس کو آگے بڑھانے اوراس کو اپنا نے میں دلچسپی لے، جبکہ بیٹا ضد کررہا تھا کہ اس نے نہ صرف صحافت میں تعلیم حاصل کرنا ہے بلکہ اس شعبہ میں جانا ہے ہمارے دوست نے ہماری موجودگی میں اپنے بیٹے کواس لیے طلب کیا تھا تاکہ ہم اسے سمجھائیں کہ وہ اپنی ضد چھوڑ کر والدکی بات مانے اورہم دوست کے بیٹے کو اپنے دلائل سے باور کروائیں کہ شعبہ صحافت بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔لیکن ہمارے دلائل تک نوبت ہی نہیں آئی اور پہلے ہی صاحبزادہ برا مناتے ہوئے ناراض ہو کر باہر چلاگیا۔میں نے ماحول کی کڑواہٹ کو تبدیل کرنے کے لئے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہاکہ پریشان ہونے والی بات نہیں بلکہ تعلیم اور مستقبل بنانے کے لئے بچوں کو آزادی دیناچاہیے اور عموماً یہ دیکھاگیا ہے کہ بچے اسی شعبہ میں نام پیدا کرتے ہیں جس میں ان کی دلچسپی ہو۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہمیں بچوں کو بروقت رہنمائی نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے وہ بھی اپنے لیے درست شعبہ کا انتخاب کرنے میں غلطی کرجاتے ہیں۔ اس کے لیے اسکول کی سطح پر بچوں کے لیے ایک رہنمائی پیریڈ ہوناچاہیے جس میں مختلف شعبہ جات کی نامورشخصیات یا وہ لوگ جو متعلقہ شعبہ جات کے بارے میں علم رکھتے ہوں وہ بچوں کو لیکچر کے ذریعے رہنمائی فراہم کریں۔ بچوں کے انٹرویوز کریں ان کے سوالات کے جوابات دیں۔تاکہ بچوں کو ابتداء میں ہی سمجھ آجائے کہ انہوںنے کس شعبہ کو فوکس کر نا ہے اورکہا ںتعلیم حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے بچوں کے والدین کو بھی آن بورڈ کیا جائے تاکہ بچوں کودبائو کا شکار کرنے کی بجائے ان کی مدد کی جائے۔ورنہ ہم بچو ں کا اصل ٹیلنٹ ضا ئع کرتے رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں