آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ان ترقی پذیر ملکوں میں سے ایک ہے جہاں روز بروز ٹریفک حادثات کی شرح بڑھ رہی ہے یہ صورتحال شہروں کے اندر بھی اور بین الاضلاعی شاہرات پر بھی موجود ہے ماہرین ان حادثات کی بڑی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی غیر معیاری سڑکوں، ناقابل استعمال پرانی گاڑیوں کو قرار دیتے ہیں گوجر خان کے قریب اتوار کی شام فلائنگ کوچ کے حادثے جس میں 19 افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہوئے کی وجہ بھی ڈرائیور کی لاپرواہی اور تیز رفتاری کا نتیجہ تھی مسافروں کے منع کرنے کے باوجود ڈرائیور نے پہلے گاڑی کو روات کے قریب اپنا غصہ نکالنے کے لئے روکے رکھا اور پھر اشتعال میں آ کر گوجر خان کے قریب گاڑی کو تیزی سے دو ٹرکوں کے بیچ میں سے نکالنے کی کوشش کی جس سے فلائنگ کوچ ٹرکوں کے درمیان دب کر رہ گئی حیرت کی بات یہ ہے کہ جی ٹی روڈ جیسی تاریخی اور کشادہ شاہراہ پر ایسے حادثات رونما ہو رہے ہیں جہاں محکمہ شاہرات کی زیر نگرانی ہائی وے پولیس قوانین پر عملدرآمد کے لئے موجود ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ٹریفک حادثات میں ایشیا میں پہلے اور دنیا بھر میں 48 ویں نمبر پر ہے اور یہاں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناتجربہ کاری اور نشہ کر کے ڈرائیونگ کرنے والے افراد کی بتائی گئی ہے ان کے تدارک کے لئے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت

ہے جن سے بین الاضلاعی شاہرات سے لیکر شہروں کے اندر ٹریفک کو رواں دواں اور کنٹرول میں رکھنا یقینی بنایا جا سکے اگرچہ ملک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سزا کے لئے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے بڑی شاہراہوں پر موٹر وے جیسے قوانین نافذ کیے جانے چاہئیں اور ترقی یافتہ ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے عوام کو باقاعدگی کے ساتھ ٹریفک قوانین سے آگاہ رکھنا کم عمر اور ناتجربہ کار افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کی سختی سے حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں