آپ آف لائن ہیں
اتوار دو شوال المکرم 1439ھ 17؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ان ترقی پذیر ملکوں میں سے ایک ہے جہاں روز بروز ٹریفک حادثات کی شرح بڑھ رہی ہے یہ صورتحال شہروں کے اندر بھی اور بین الاضلاعی شاہرات پر بھی موجود ہے ماہرین ان حادثات کی بڑی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی غیر معیاری سڑکوں، ناقابل استعمال پرانی گاڑیوں کو قرار دیتے ہیں گوجر خان کے قریب اتوار کی شام فلائنگ کوچ کے حادثے جس میں 19 افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہوئے کی وجہ بھی ڈرائیور کی لاپرواہی اور تیز رفتاری کا نتیجہ تھی مسافروں کے منع کرنے کے باوجود ڈرائیور نے پہلے گاڑی کو روات کے قریب اپنا غصہ نکالنے کے لئے روکے رکھا اور پھر اشتعال میں آ کر گوجر خان کے قریب گاڑی کو تیزی سے دو ٹرکوں کے بیچ میں سے نکالنے کی کوشش کی جس سے فلائنگ کوچ ٹرکوں کے درمیان دب کر رہ گئی حیرت کی بات یہ ہے کہ جی ٹی روڈ جیسی تاریخی اور کشادہ شاہراہ پر ایسے حادثات رونما ہو رہے ہیں جہاں محکمہ شاہرات کی زیر نگرانی ہائی وے پولیس قوانین پر عملدرآمد کے لئے موجود ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ٹریفک حادثات میں ایشیا میں پہلے اور دنیا بھر میں 48 ویں نمبر پر ہے اور یہاں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناتجربہ کاری اور نشہ کر کے ڈرائیونگ کرنے والے افراد کی بتائی گئی ہے ان کے تدارک کے لئے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت

x
Advertisement

ہے جن سے بین الاضلاعی شاہرات سے لیکر شہروں کے اندر ٹریفک کو رواں دواں اور کنٹرول میں رکھنا یقینی بنایا جا سکے اگرچہ ملک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سزا کے لئے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے بڑی شاہراہوں پر موٹر وے جیسے قوانین نافذ کیے جانے چاہئیں اور ترقی یافتہ ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے عوام کو باقاعدگی کے ساتھ ٹریفک قوانین سے آگاہ رکھنا کم عمر اور ناتجربہ کار افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کی سختی سے حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں