آپ آف لائن ہیں
اتوار دو شوال المکرم 1439ھ 17؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ سندھ کے شہر نواب شاہ میں بچوں کو خسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جانے کی مہم کے دوران ویکسین کے مبینہ طور پر زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے تین بچوں کا جاں بحق اور متعدد کا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوجانا مجرمانہ کوتاہی کا ایسا واقعہ ہے جو کسی صورت لائق صرف نظر اور قابل معافی نہیں ۔ صوبائی محکمہ صحت کی جانب علاقے میں خسرہ کی وبا کے باعث بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کے دوران اتوار کو مریم روڈ پر جن بچوں کو ٹیکے لگائے گئے ان میں سے متعدد کی حالت کچھ دیر بعد بگڑ گئی جنہیں یکے بعد دیگرے پیپلز میڈیکل کالج اسپتال لایا گیا۔ تاہم ان میں سے تین بچے اپنے والدین اورعزیزوں کو تڑپتا چھوڑ کر دنیا سے رخصت سے ہوگئے جبکہ کم از کم سات کی حالت آخری دستیاب اطلاعات کے مطابق نازک تھی لیکن اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں تھا جس پر ورثاء اور شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس پر انتظامیہ نے غمزدہ لوگوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کو طلب کرلیا۔نواب شاہ صوبے کی حکمراں جماعت کے قائد اور سابق صدر مملکت آصف زرداری کا آبائی شہر بھی ہے ۔ اس کے باوجود یہاں ضروری طبی سہولتوں کے فقدان کے سبب حفاظتی ٹیکوں کے ری ایکشن کا شکار ہونے والے بچوں میں سے جن کی حالت زیادہ تشویشناک تھی انہیں ضروری طبی امداد کیلئے کراچی

x
Advertisement

منتقل کرنا پڑا۔اس المناک واقعے کے بعد پورے صوبے میں خسرہ کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم روک دی گئی ہے، جناب زرداری نے پورے معاملے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ، وزیر صحت نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔زائد المیعاد ویکسین کا استعمال لاعلمی میں نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام ادویات پر مدت ختم ہونے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔ اس لیے محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر نچلے عملہ تک سب اس سنگین واقعے کی ذمہ دار ی میں شریک نظر آتے ہیں لہٰذا بے لاگ اور تیز رفتار تحقیقات کے ذریعے اس افسوسناک واقعے کے اسباب اور ذمہ داروں کا جلد ازجلد تعین کرکے آئندہ ایسے واقعات کے اعادے کی مکمل روک تھام کا بندوبست حکومت کی ناگزیر ذمہ داری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں