آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیجنگ (جنگ نیوز)چین نے آئندہ سال کے لیے دفاعی بجٹ کی مد میں 175ارب ڈالر یعنی (دس کھرب یوان، 193کھرب روپے سے زائد ) کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ رقم گذشتہ برس سے آٹھ فیصد زیادہ ہے۔یہ اعلان بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔انہوں نے دفاعی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو پتھر کی مانند مضبوط ہونا چاہیے۔ چین نے آئندہ سال کے لیے اپنی شرح نمو کا ہدف بھی 6.5 فیصد مقرر کیا ہے۔اس اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی جانب سے ملک کے صدر کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی منظوری کا بھی امکان ہے۔کانگریس کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کے بعد صدر شی جن پنگ چیئرمین ماؤ کے بعد سب سے طاقتور چینی رہنما بن جائیں گے۔پیر کو ہونے والے اس اجلاس میں ہزاروں قانون سازوں نے صدارتی ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کو سراہا۔چین کی نیشنل پیپلز کانفرنس کے ارکان کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے اور اُس میں چین کے تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ان افراد کو بظاہر الیکشن کے ذریعہ چنا جاتا ہے لیکن انھیں نامزد کیمونسٹ پارٹی ہی کرتی ہے۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں حکومت

کے تین اہم اہداف ہیں۔ جن میں چین کے لیے مالیاتی خطرہ کو کم کرنا، آلودگی کو لگام دینا اور بڑھتی ہوئی غربت کو کم کرنا شامل ہیں۔اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم لی نے دفاعی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو ʼپتھر کی مانند مضبوط ہونا چاہیے۔چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ کو اسٹریٹجک عزائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ چین دنیا کی سب سے بڑی فوج کو جدید بنا رہا ہے، ہمالیہ کے سرحدی علاقوں اور جنوبی چینی سمندر جیسے علاقوں میں انفراسٹرکچر تعمیر کررہا ہے۔چین کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے بعد امریکہ سمیت خطے کے دیگر حریف ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور کئی سالوں سے ہونی والی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ملک میں غربت کم ہوئی ہے اور متوسط طبقہ بڑھا ہے۔چین میں سوسے زیادہ افراد ارب پتی ہیں اور اُن کی اکثریت سیاسی مشاورتی کونسل کی رکن ہے۔ اس کونسل کا شمار اہم مشاورتی گروہ کے طور پر ہوتا ہے۔قرض پر زیادہ انحصار سے چین پر سیاسی سطح خدشات بڑھے ہیں۔چین نے آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 6.5 فیصد مقرر کیا ہے جو 2017 کی اقتصادی شرح نمو کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں