آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جام شورو( نیوزڈیسک) شاعر اور فنکار امن و محبت کے سفیر ہوتے ہیں جو رنگ، نسل، ذات، اور زبان کے فرق سے اوپر ہوکر پوری دنیا کے اندر امن و محبت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ شاعری اور موسیقی امن اور پیار کا پیغام عام کرنے کا طاقتور ذریعہ ہیں۔ سندھ کے لوگ موسیقی سے پیار کرتے ہیں، پاکستان کے تمام صوفی شعراءکرام نے اپنے صوفیانہ کلام کے ذریعے امن و پیار کا درس دیا ہے۔ سندھ کی ثقافت کے ساتھ یہاں کا لوک ادب بھی پوری دنیا کے اندر منفرد مقام رکھتا ہے، جس میں لوک قصوں، کہانیوں اور لوک شاعری کی صورت میں بے بہا موتی سمائے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الجامع سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے جامعہ سندھ میں لیکچر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انسٹیٹیوٹ آف انگلش لئنگویج اینڈ لٹریچر کی جانب سے آرٹس فئکلٹی کے شیخ ایاز آڈیٹوریم میں منعقد کیے جانے والے اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائیس چانسلر نے مزید کہا کہ بھٹائی سندھ کے عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری میں پورے عالم کے امن، سکھ اور سلامتی کی دعا اور حق سچ کا پیغام سمایا ہوا ہے۔ ڈاکٹر برفت نے آمریکا سے آئے ہوئے شاعر سگھڑ ٹموتھی کو جامع سندھ میں آنے پر خوش آمدید کہا اور انتہائی اھم موضوع پر لیکچر دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔پروگرام میں لیکچر دیتے ہوئے آمریکا کے مشہور

x
Advertisement

شاعر اور سگھڑ ٹموتھی نے کہا کہ شاعری عالمی زبان ہے، جس میں شامل پیغام بھرپور طرحہ سے ذہنوں پر اپنے اثر چھوڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شاعری اور موسیقی محسوس کرنے کے لیئے ہوتی ہیں۔ شاعری اور موسیقی صرف روح کی غذا نہیں پر ان سے مختلف بیماریوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کے آمریکا اور یہاں کے لوگوں کی زبان، ثقافت، اور روایتوں میں بھلے فرق ہو، لیکن دلوں میں موجود احساسات ایک جیسے ہیں، اور احساسات کی کوئی بھی زبان اور سرحد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگوں اور ماحول کے بارے میں، میں نے جو کچھ سنا تھا یہاں آکر بالکل ہی مختلف دیکھا اور محسوس کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں