آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات8؍صفر المظفّر1440ھ18؍ اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل کا نام لیا جاتا ہے لیکن نتیجہ صفر ہے، ای او بی آئی نے وزیراعظم سیلاب فنڈز میں50کروڑ روپے کیسے جاری کئے؟ کیا وفاق کو شرم آتی ہے؟عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرانا وفاقی حکومت کا کام ہے، خدا کا خوف کریں کسی کیلئے تو کچھ چھوڑ دیں، کیا 5250روپے میں کسی کا گزارہ ہو سکتا ہے؟ وفاقی حکومت نے لوٹ سیل لگا رکھی ہے، حکومت 15مارچ تک ای او بی آئی کو ڈیڑھ ارب روپے واپس کرے۔پیر کو سپریم کورٹ میں ای او بی آئی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ای او بی آئی کے اکائونٹس سے ڈیڑھ ارب روپے نکالے گئے، حکومت نے تاحال رقم واپس کیوں نہیں کی؟ بیت المال کے لاء افسر عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ کیا آپ اس عدالت کے وکیل ہیں؟آپ سپریم کورٹ کے وکیل نہیں تو عدالت کیسے پیش ہو گئے؟ عدالت کے ساتھ کیوں مذاق کیا جا رہا ہے؟ بیت المال نے ایک ارب واپس کرنے کے بجائے لاء افسر بھیج دیا ہے، لاء افسر کا کیس سے لاعلم ہونا قبول نہیں ہے، کیوں نہ سربراہ بیت المال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور غلط بیانی کی حد ہوتی ہے، کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل کا نام لیا جاتا ہے

لیکن نتیجہ صفر ہے، کیا بزرگ پنشنرز لاوارث ہیں جو کسی کو ان کی پرواہ نہیں، ای او بی آئی نے وزیراعظم سیلاب فنڈز میں 50کروڑ کیسے جاری کئے؟ بزرگ پنشنرز کا پیسہ کسی اور کو کیوں دیا گیا؟ کیوں نہ کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوا دیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وفاق کو شرم آتی ہے؟ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حکومت کو ہر صورت پیسہ واپس کرنا ہو گا، عدالتی احکامات پر عمل کرانا وفاق کا کام ہے، ، عدالت نے 15مارچ تک ای او بی آئی کو ڈیڑھ ارب روپے واپس کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر پیسے واپس کرنے کی رپورٹ طلب کرلی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں