آپ آف لائن ہیں
جمعہ 7؍ شوال المکرم 1439ھ 22؍ جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار اور ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن کی تقرری کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیاگیا ‘ رٹ پٹیشن میں استدعا کی گئی کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اور پراونشل مینجمنٹ سروسز کے افسران کو پشاور ہائیکورٹ میں تعینات کر نا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ‘ رٹ پٹیشن مقامی وکیل علی عظیم آفریدی نے دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار محمد سلیم خان ‘ایڈیشنل رجسٹرار ذکاء اللہ خٹک ‘ پشاور ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریٹو کمیٹی ‘ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بذریعہ پرنسپل سٹاف آفیسر وزارت قانون و پارلیمانی امور اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے‘ رٹ میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں اس وقت تعینات رجسٹرار گریڈ 21کے آفیسر ہیں جن کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز سے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیاگیا ہے اسی طرح ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن گریڈ 19کے آفیسر ہیں اوران کا صوبائی مینجمنٹ سروسز سے ہے ‘ انہوں نے رٹ میں موقف اختیار کیا کہ پشاور ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریٹو کمیٹی نے اپنے ہی رولز اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے برعکس ان افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا ہے جس سے صوبہ بھر کے ماتحت عدلیہ میں تعینات افسران ان کے ماتحت ہوگئے اور گریڈ 20کے افسر اور گریڈ 22کے تبادلے کرنے لگے‘ یہ

x
Advertisement

نوٹیفکیشن 27جنوری 2017ء کو جاری کیاگیا جو کہ خلاف آئین اور قانون ہے‘ رٹ میں یہ بھی موقف اختیار کیاگیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو کمیٹی اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے متعدد فیصلوں میں یہ قرار دیا ہے کہ انتظامیہ سے افسران کو جوڈیشل پوسٹوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے عدلیہ نے انتظامیہ سے الگ ہو کر جو آزادی حاصل کی ہے وہ متاثر ہوگی لہٰذا اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے اور رٹ کے فیصلے تک رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ اور ایڈیشنل رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو کام سے روک دیا جائے اس کے ساتھ ساتھ انتظامی کمیٹی اور چیف جسٹس کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم بھی جاری کیا جائے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں