آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ )جسٹس ریٹائرڈلاہور ہائی کورٹ ناصرہ اقبال کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں قانون کے شعبے میں ہمیشہ مردوں کی برتری رہی ہے ، مردانہ برتری عدالت اور وکالت کے شعبے میں خواتین کا آنا پسند نہیں کرتے ، عاصمہ جہانگیر نے بہت مضبوط قدم اٹھایا اور اے جی ایچ ایس جیسی(لیگل ایڈ) تنظیم بنائی ، 1964میں فیملی کورٹس بنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ڈسٹرکٹ میں ایک خاتون جج ہوگی جو خاندانی کیسز کو نمٹائے گی جو عورتوں کے لئے عدلیہ کے دروازے کھولنے کے مترادف تھا ، لیکن مرد وکلا خاتون جج کے سامنے پیش ہونے سے کتراتے اور کچھ بد مزگی کے واقعات کے بعد خواتین نے اس شعبے سے کنارہ کشی اختیار کرلی ،یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے بار کونسل کو یقینا اقدامات اٹھانے چاہییں ۔خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ’’جیو پاکستان‘‘ میں مارچ کے مہینے میں خواتین ویک کا آغاز کردیا گیا ، پاکستان کی تاریخ طاقتور خواتین سے بھری ہوئی ہے ،معاشرے کی ترقی میں ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت یکساں کردار ادا کرتاہے ، جیو پاکستان میں ویمن ویک کے آغاز میں حالیہ دونوں وفات پانے والی عاصمہ جہانگیرکو خراج تحسین پیش کیا گیا ،عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی منیزے جہانگیر نے ’’جیو پاکستان ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری والدہ خواتین کی ترقی اور

شعور پر بہت یقین رکھتی تھیں ، ہماری تنظیم اے جی ایچ ایس (لیگل ایڈ سیل)خواتین کے لئے نا صرف فری کیسز لڑتی ہے بلکہ خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہی بھی فراہم کرتی ہے ، کئی لوگوں کی رول ماڈل عاصمہ جہانگیر رہی لیکن والدہ کے رول ماڈل ان کے والد (میرے نانا)تھے جنھوں نے ساری زندگی اپوزیشن میں سیاست کی ،حق اورسچ کی سر بلندی کے لئے جیلیں کاٹیں جلا وطنی بھگتی ۔ منیزے جہانگیر کا مزید کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر ایک جمہوری ، روشن خیال پاکستان کی سوچ رکھتی تھیں جہاں سب سے کمزور طبقے کو ریاست تحفظ فراہم کرے ۔ 50 فیصد خواتین کی آبادی رکھنے والے ملک پاکستان میں خواتین کامیابیوں کے نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں وہیں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جہاں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ،انٹر نیشنل کمیشن آف جیورسٹ کی مشیر ریما عمر کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں خاتون جج کوسپریم کورٹ میں تعینات نہیں کیا گیا ، ہائی کورٹس کے 119 ججز میں سے صرف 4 خواتین ججز ہیں ، عاصمہ جہانگیر واحد خاتون تھی جو سپریم کورٹ بار کونسل کی صدر رہیں، انھی مسائل پر بات کرتے ہوئےسینیٹ انتخابات کے بعد چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کامرحلہ آن پہنچا ، نشستوں کے حساب سے سب سے چھوٹے صوبے بلوچستان کے آزاد امیدواروں پر بڑی جماعتوں نے نظریں رکھ لیں ،بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ فیصلہ کیا جائے گا جو بلوچستان کے عوام کے حق میں ہو ،بلوچستان سے نو منتخب سینٹر انوار الحق کاکڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کے بعد بلوچستان سے منتخب ہونے والے 8 آزاد امیدوار گروپ کی شکل میں ہی کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد کریں گے ، سینیٹ الیکشن میں پیسے چلنے کی خبروں سے متعلق انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سنی سنائی باتوں پر تبصرہ کرنا وقت کا ضیاع ہے ، مجھ جیسے مڈل کلاس کے اپر ہائوس ممبر سلیکٹ ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسا چلنے کی باتیں بے بنیاد ہیں ، بلوچستان کے سینٹرز کے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد مسلم لیگ ن کے رویے پر منحصر ہے ۔ دہری شہریت پر سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری افسران کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے ، نمائندہ خصوصی جیو نیوز اعزاز سید کا کہنا تھا کہ سروسز گروپس کے 3ہزار سرکاری افسران میں سے 200دہری شہریت کے حامل ہیں ، ایک تضاد جو اس معاملے میں ہمیں نظر آتا ہے وہ یہ کہ پاکستان کے کچھ ممالک کے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے ہیں اور اس معاہدے میں یہ واضح نہیں کہ سرکاری افسران کو یہ دہری شہریت چھوڑنی ہو گی ۔سابقہ چیئرمین نادرا بھی دہری شہریت رکھتے تھے ، قانون نہ ہونے کے باعث کسی کودہری شہریت سے روکا نہیں جاسکتا ، نادرا جیسے بڑے ادارے میں کرپشن کا ہونا حیران کن نہیں ، سوال اس کرپشن کے تدراک کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ہے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں