آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد( صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار)پارلیمانی ایوان بالا سینیٹ کے نصف ارکان کے لئے الوداعی جبکہ بقیہ نصف کے لئے وسط مدتی اجلاس ایسے ماحول میں شروع ہوا ہے کہ گزشتہ ہفتے کو منعقد ہوئے سینیٹ کے بائون ارکان کے انتخاب اور ان میں روا رکھی گئی رائے دہندگان کی خرید و فروخت کی بازگشت چھائی رہی اور یہ سوال اٹھایا جاتا رہا کہ لوٹ مار سے کمائی کرنے اورجرائم کو سیاسی ارتقا کا وسیلہ بنانے والے اپنی مجرمانہ کامیابیوں پر ڈینگیں تو مارسکتے ہیں لیکن مالیاتی غلاظت کے بطن سے جنم لینے والے ارکان کسی طور پر بھی قدر و منزلت کے مستحق قرار نہیں پاسکتے، خود کو اسٹریٹ اسمارٹ ثابت کرنے والے اپنے گھٹیا پس منظر اورٹکٹوں کی بلیک کے دھندے سے خود کو الگ نہیں کرسکے یہی وہ عناصر ہیں جو آ خر کار سیاسی نظام اور جمہوریت کو حادثات سے دوچار کرنے کا باعث بنتے ہیں، ملک عزیز کی ترقی اور آسودگی کے سفر کو کھوٹا کرنے کے لئے جس رخنے کی بنیاد 28 جولائی کو استوار کی گئی تھی اس کو قدم بقدم آگے بڑھایا جارہا ہے کبھی چھوٹا قدم ہوتا ہے اور کبھی لمبی جست،28 جولائی نہ آتا تو آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ فراٹے بھرتے تکمیل کے مراحل طے کررہا ہوتا وہ مشکلات جن کا ملک عزیز کو داخلی اورخارجی طور پر سامنا ہے کہیں موجود ہی نہ ہوتیں۔ پھر

بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کو توڑ کر وہاں عسکری مسلم لیگ قائم نہ کی جاتی تو آج ملک کو غیریقینی حالات کا سامنا نہ ہوتا، بلوچستان کی بغاوت کا مقصد سینیٹ کے انتخابات کو رکوانا تھا جہاں پاکستان مسلم لیگ نون کی برتری گوارا نہیں تھی جو سینیٹ کے انتخابی نتائج نوشتہ دیوار کی طرح عیاں دکھائی دے رہے تھے، پاکستان مسلم لیگ نون کا نامزد کردہ چیئرمین سینیٹ منظور نہیں تھا پھر سینیٹ کے انتخابات سے عین پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کوانتخابی عمل سے خارج کردیا گیااس کے امیدواروں کی شناخت چھین لی گئی ان کے قابل فخر انتخابی نشان شیر سے انہیں محروم کردیاگیا انہیں توقع تھی کہ انتخابی نتائج سے پاکستان مسلم لیگ نون بکھر جائے گی اوراس کی عددی حیثیت تیسرے شمار پر آنے والی پارٹی سے آگے نہیں بڑھ سکے گی اوراینٹ سے اینٹ بجا دینے والے چھا جائیں گے ایسا نہ ہو سکا زخموں سے نڈھال لیکن آمادہ بغاوت پاکستان مسلم لیگ نون ان تمام کھٹنائیوں کے باوجود ایوان بالا کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری یہ الگ بات ہے کہ اس کے راستے میں کانٹے نہ بچھائے جاتے تو وہ کامل اکثریت کے قریب کی پارٹی ہوتی اوراپنے حلیفوں کی اعانت سے اس کی تعداد دوتہائی اکثریت پر مشتمل ہوجاتی، اب ایک وار مزید ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے تین اور تحریک انصاف کے ایک منتخب رکن کے نوٹیفیکیشن کا اجرا روک دیا گیا ہےمقصد یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں یہ ارکان سینیٹ چیئرمین کے چنائو میں اپنا ووٹ استعمال نہ کرسکیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں