آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی نصاب کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے، میرخلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کا سیمینار

لاہور (رپورٹ: وردہ طارق) تعلیم کے ذریعے معاشرہ، افراد، قوم، تہذیب و ثقافت کی تعمیر ممکن ہے کیونکہ افراد اور قوموں کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تعلیمی نصاب اگر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان میں تعلیمی نصاب کی تیاری کے وقت اسلامی اقدار، تہذیبی پہلوؤں اور مختلف پاکستانی ثقافتی اکائیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ایسی کتابیں تیار کرنے کاارادہ رکھتا ہے جو بچے کی نفسیاتی، ذہنی، معاشرتی، مذہبی، قومی ضروریات کو پورا کرتی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے حکومت پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ اور میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے زیراہتمام ہونے والے خصوصی سیمینار بعنوان ’’قومی و ملی یکجہتی میں تعلیمی نصاب کا کردار‘‘ میں کیا۔ سیمینار کی صدارت صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے کی۔ گیسٹ آف آنر میں چیئرمین پی سی ٹی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد اکرم، ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور مولانا راغب نعیمی، وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر، سینئر تجزیہ نگار جیو ٹی وی حفیظ اللہ

نیازی، تجزیہ کار و ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے ادارہ سماجی انصاف پیٹر جیکب، پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج و چیف ایم ایس جناح ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیاء، کالم نگار روزنامہ جنگ ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر، ماہر تعلیم ڈاکٹر نعیم خالد، پی ایل ڈی زبیر سعید، پبلشر مظہر مہدی شامل تھے۔ حرف آغاز ایم ڈی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور عبدالقیوم نے پیش کیا۔ حرف تشکر سیکرٹری سکولز حکومت پنجاب ڈاکٹر اللہ بخش نے پیش کی۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن اسلام آباد ڈاکٹر مختار احمد نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں میزبانی کے فرائض چیئرمین میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز واصف ناگی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ؐ کی سعادت محمد خلیق حامد نے حاصل کی۔ رانا مشہود احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہمارا کوالٹی آف ایجوکیشن پر بہت زیادہ فوکس ہے۔ پہلی حکومت کا تعلیمی بجٹ 63ارب تھا جبکہ پچھلے سال کا بجٹ 345 سکول ایجوکیشن کا تھا اور یہ سو فیصد استعمال کیا گیا۔ ساتھ ساتھ ڈیپارٹمنٹ کی کیپسٹی بلڈنگ بھی کی گئی۔ اس وقت 53ہزار سکولز میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے پڑھ رہے ہیں۔ پنجاب ایجوکیشن ماڈل کی پوری دنیا میں بہت پذیرائی ہورہی ہے اور شہبازشریف کی سربراہی میں اس وقت بہت ہی عمدہ کام ہورہا ہے، تعلیم پر سیاست بالکل بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اس وقت 50یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کروائی جا رہی ہے۔ ہم پوری نیت اور لگن کے ساتھ انویسٹ کر رہے ہیں کہ یہ بچے پاکستان کو پے بیک کریں گے۔ ڈاکٹر اللہ بخش ملک نے کہا کہ تعلیمی نصاب ملک میں ہم آہنگی لاتا ہے اور اس کے تین اہم موضوعات ہیں جن میں کرکیولم، ٹیچرز شامل ہیں۔ ان تینوں چیزوں پر گورنمنٹ بہت زیادہ کام کر رہی ہے۔ کوالیفائیڈ ٹیچرز کے بغیر ٹریننگ ممکن نہیں۔ پچھلے پانچ سال میں جتنے ٹیچرز بھرتی کئے گئے ہیں وہ تمام میرٹ پر ہوئے ہیں۔ ٹیچرز ٹریننگ نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ لوگ تبدیلی لائیں گے اور ٹیچرز چیمپئن آف چینج ہیں۔ عبدالقیوم نے کہا کہ قلم سے کتاب وجود میں آتی ہے کتاب محبت کا ذریعہ ہے حال ہی میں مذہبی ہم آہنگی کو زد کرنے کی چند مثالیں سامنے آئی ہیں۔ اختلاف رائے غلط نہیں ہے مگر اختلاف رائے احسن طریقے سے ہونا چاہیے۔ سول سوسائٹی کو تمام مسائل سے آگاہ ہونا چاہیے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کتاب و قلم ملک کی یکجہتی کا باعث بنیں۔ ہمیں مل کر ایک ملک، ایک قوم کے خواب کو پورا کرنا ہو گا۔ تمام لوگوں کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا۔ تعلیم کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی، معیشت ، تہذیب اور بہترین اذہان پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ نصاب کو بنانا انتہائی محنت طلب کام ہے جس کیلئے انتہائی ذہین اور تجربہ کار اساتذہ اور ماہرین کام کرتے ہیں۔ نصاب تعلیمی نظام کو ایک بنیاد مہیا کرتا ہے جس پر آگے چل کر ایک مضبوط عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ نصاب اساتذہ اور طلباء ایک تکون کے تین کونے ہیں ان میں اگر ایک بھی نہ ہو تو تعلیمی نظام کا عمل چل نہیں سکتا۔نصاب کسی بھی ملک کی قومی وملی یکجہتی میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نصاب ہی ہوتا ہے جو ایک ملک ایک قوم اورایک سوچ کو جنم دیتا ہے۔نصاب اگر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حکومت کے علم میں ایک عرصہ سے یہ باتیں علم میں لائی جا رہی ہیں مارکیٹ میں ایسی کتب بھی آ چکی ہیں جن کی اشاعت کے بارے میں پی سی ٹی بی سے پیشگی منظوری نہیں لی جاتی یا پھر جو کتب مارکیٹ میں ہیں۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے پنجاب کریکوم اینڈ ٹیکسٹ بورڈ نے ایکٹ2015ء کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کیے، جس کے بڑےذ اچھے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں