آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
٭جناب حامد میر صاحب آپ کے آج کے کالم سے ایک بات تو عیاں ہو گئی ہے کہ عمران خان صاحب،میاں صاحب اور آصف علی زرداری سیاسی میدان میں ایک ہی رخ کے سکے ہیں۔ (اعجاز فیروزی،کراچی)
٭جناب حامد میر آپ نے درست فرمایا ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہوسکتی ہے ۔ نواز شریف صاحب نے آصف علی ذرداری کو دھوکا دیا انتقامی سیاست کا راستہ اپنایا ۔کیا ملا انہیںیہ کونسی خدمت ہوئی ملک کی۔آصف علی ذرداری نے اپنے دور حکومت میں کوئی انتقام نہیں لیا کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا ۔(افشاں پروین،کراچی)
٭حامد میر صاحب آپ نے آج انتہائی شاندار کالم لکھا ہے اور یہ بات سب کو کھلے الفاظ میں بتا دی ہے کہ سیاسی میدان میں تمام پارٹیاں برابر ہیں خاص طور پر سینیٹ الیکشن میں کس طرح کھلے پیسے کا استعمال کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے یہاں تک کہ دو سیاسی مخالف اے این پی اور جماعت اسلامی نے بھی سینیٹ کے مقابلے میں اتحاد بنا کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ (محمد عمران شیخ ،حیدر آباد)
٭حامد میر صاحب آپ نے عمران خان کے حوالے سے درست بات کہی کہ تمام جماعتوں پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والے اپنی جماعت پر انگلی نہیں اٹھا رہے ہیں۔نیازی صاحب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں پر تو خوب انگلی اٹھاتے ہیں مگر اپنے اوپر برسنے والے تنقید کے نشتروں کو

برداشت نہیں کرتے اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔( نرگس خان،لاہور)
٭محترم میں آپ کے خیالات کی قدر کرتا ہوں کہ آپ نے کہا کہ عمران خان صاحب کو چوہدری سرور کو مبارکباد نہیں دینی چاہئے تھی کیونکہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انہوں نے بھی 14 ووٹ خریدے ہیں ۔سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے امید سے زیادہ اور عمران خان نے کم ووٹ حاصل کئے یہ اس بات کی طرف کھلا اشارہ ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ایم پی ایز کی خوب بولی لگی۔(عمر خالد ،راولپنڈی)
٭ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ پاکستان کی تقدیر کو اپنے قبضے میںسمجھتے ہیں۔اس جوڑ توڑ کی سیاست میں میرا ان لوگوں سے سوال ہے جو لوگ بکتے یا خریدے جاتے ہیں کہ کیا یہ رشوت نہیں ہے کیا اس طرح یہ لوگ ملک کی تقدیر لکھ سکیں گے؟(لیلٰی محفوظ،ملتان)
٭ حامد میر صاحب عرض ہے کہ اس وقت ملک میں مؤثر اپوزیشن نہیں ہے جس کا فائدہ ن لیگ اٹھا رہی ہے اور اداروں کو اپنی مرضی کے ماتحت کیے ہوئے یا کرنا چاہ رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت بے نظیر بھٹو کی طرح کا اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے تھا۔(میر عبدالجبار، 'گوجرانوالہ)
٭ حامدمیرصاحب، پی ٹی آئی کے اراکین بھی بکے ہیں،پارٹی نے تحقیقات بھی شروع کردی ہے مگرخان صاحب کا بڑا المیہ یہ ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر دل کھول کے تنقیدکرتے ہیں،لیکن اپنوں کی غلطیوں پے چھپ سادھ لیتے ہیں، تبدیلی کانعرہ لگاکرخان صاحب پاکستانی سیاست کے افق پے خوب ابھرے تھے لیکن ان کےاس مایوس کن رویے سے بہت سے نظریاتی کارکن اب پی ٹی آئی سے پرے ہورہے ہیں،تبدیلی کے علمبرداروں کے لئے اچھاشگون نہیں ہے۔(بلال ،کراچی)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں