آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’درس نظامی‘‘ برصغیر کے دینی ،علمی وتدریسی حلقوںکی سب سے نمایاں اصطلاح، جس کے زیر اثر مدارس کا وسیع سلسلہ ناصرف پاکستان بلکہ ہندوستان سمیت جنوب ایشا ء میں پھیلا ہوا ہے۔ کوئی عبقری اور نابغہ علم وفضل کی جس حد کو بھی چُھولے ، دینی حلقے اس کو اس وقت تک عالم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، جب تک وہ خود کو ’’درس نظامی‘‘ کا متعلم ثابت نہ کر دے۔اسلامی دنیا میں ’’دینی مدارسـ‘‘ کے حقیقی بانی کا تعین یقینا ایک مشکل مسئلہ ہے۔ ابن خلدون کا خیال ہے کہ موجود ہ مدرسہ سسٹم کی بنیاد نظام الملک طوسی نے رکھی۔ نظام الملک طوسی مدارس کا بانی تھا یانہیں؟ البتہ وہ پہلا شخص ضرور تھا جس نے ا س نظام کو منظم کیا، اس سے پہلے جو بھی کاوش ہوئی وہ قدرے ادھوری اور محدود تھی۔گیارہویں صدی عیسوی میں الپ ارسلان کے دورِ حکومت میں ،دربار کی سب سے ممتاز اور طاقتور شخصیت نظام الملک ہی تھا۔وہ اعلیٰ درجے کا منتظم اور بہترین مدبّر تھا۔ فوجی مہمات سے لیکر فکری معرکہ آرائیوں تک وہ بادشاہ کے ساتھ رہتا۔ الپ ارسلان کے بعد ملک شاہ کے تاج وتخت کے لیے بھی نظام الملک نے راستے ہموار کئے۔ اس کی دانشمندی سے کئی بغاوتیں کچلی گئیں اور مشکلات رفع ہوئیں۔ ملک شاہ نے اپنے مخلص اوردیانتدار وزیر کو باپ کا درجہ دیتے ہوئے ’’اتابک‘‘ یعنی شاہ باپ ، کا خطاب

عطا کیا۔تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسی ملک شاہ کے ساتھ نظام الملک کا کسی معاملہ پر اختلاف ہوگیا تو ملک شاہ نے نظام الملک کویہ دھمکی دی کہ وہ اس کے میز سے ’’قلم اوردوات‘‘ اٹھوا دے گا ،جو ُاس کی معزولی کی علامت ہوگی، تو اس پر نظام الملک نے کہا کہ اگر میری میز پر "قلم و دوات"نہ رہی تو بادشاہ کے سر پر تاج بھی نہیں ر ہے گا۔ اس تُرش جواب پر سلطان غضبناک ہوگیا، جس کے سبب نظام الملک جیسے ذہین اورعظیم آدمی سے دنیا محروم ہوگئی ،تاہم اس کے بعد بادشاہ بھی زیادہ دیرزندہ نہ رہ سکا۔ ملک میں بدنظمی پھیل گئی اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کے لیے عبرت کا پیغام لیکر آئیں ۔
دینی تدریس اور مذہبی تعلیم سے متعلق مستند حلقے تقریباًاس امر پر متفق ہیں کہ اسلامی مدارس کا صحیح بانی نظام الملک طوسی ہی ہے ۔ نظام الملک نے مسلمانوں کے تدریسی نظام کے فروغ کو ایک تحریک کی شکل دی۔ مدارس کی پُرشکوہ عمارات اوردارالا قامے قائم کئے ۔ اسلامی دنیا کے طول وعرض میں مدارس کا مضبوط نظام قائم کیا جس کے سبب اس شعبہ میں نظام الملک ہمیشہ کے لیے ناقابل فراموش ہوگیا۔ گویا دینی تدریس یا مدارس کے لیے ’’نظامیہ‘‘ کالفظ کم وبیش ایک ہزار سال پرانا ہے۔ جس کے ساتھ مدرسہ کابنیادی تصوّر اورا س کے نمایاں خدوخال وابستہ ہیں۔
برصغیرمیں مدارس کا نظام غزنی سے آئے ہوئے ترکوںکی وساطت سے پہنچا۔ غزنی شہر جو محمود کے زمانے میں اسلامی عجم کا سب سے بڑا مرکز تھا ،دینی علوم کا گہوارہ بن گیا،پنجاب جب سلطنت غزنی میں شامل ہوا ، تو دارالحکومت کے ماحول سے اس کا متاثر ہونا ایک فطری امر تھا، عہدِ سلاطین میں کم وبیش غزنوی دور کا نصابِ تعلیم ہی ہندوستان کے مدارس میں رائج رہا ۔ اسکندر لودھی کے زمانے میں نصاب تعلیم میں منقولات کا غلبہ رہا ، اکبر کے دور میں حدیث کی تدریس کو اہمیت دی گئی۔ تاہم دینی مدارس میں جو سب سے بڑا تعلیمی انقلاب آیا وہ اسلامی مدارس میں ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے ایک نئے نصابِ تعلیم کا آغاز تھا ، جس کے بانی ملاّ نظام الدین سہالوی تھے۔ ملا نظام الدین سہالوی معتبر عالمِ دین ، فقیہہ ، فلسفی، شارح اور ایک ممتاز مدرس تھے، جو 1677ء میں لکھنو کے نواح میں، سہالی میں پیدا ہوئے۔ اورنگ زیب نے اس خاندان کی علمی اور تدریسی خدمات سے متاثر ہو کر لکھنو میں ’’فرنگی محل‘‘ کا علاقہ ان کو عطا کر دیا۔ آپ علمائے متاخرین میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے ۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خود اسلامی علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل کرکے، درسیات کی بہترین کتب کو باہم مربوط اور منظم کر کے اس طرح مرتّب کیا، جس سے عربی علوم کا ایک جامع اور ہمہ گیر نصاب ترتیب پایا، جو آج بھی ان کی نسبت سے ’’درس نظامی‘‘ کہلاتا اور تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ مدارس عربیہ میں رائج ہے۔ اس نصاب میں ملاّ صاحب نے پہلی بار ہندوستانی علماء کی کتابو ں کوشامل کیا، علاوہ ازیں انہوں نے اختصار کے اصول کو بڑی شدت کے ساتھ ملحوظ رکھا۔ ہر فن پر ایک سے زیادہ کتابیں رکھیں اوروہ بھی مختصر ، پھر بعض کتابوں کے کچھ حصے شامل درس کئے۔ یہ طریقہ جدید نظریۂ تعلیم کے عین مطابق تھا ۔ ملا ّ صاحب نے ہر فن کی مشکل ترین کتاب کو تدریس کے لیے منتخب کیا تاکہ طلباء میں گہرے غوروفکر اور عمیق مطالعے کا ذوق نشوونما پائے۔ اسی طرح ان میں فکری توازن پید اکرنے اور کسی مخصوص مسلکی تعصب سے بچانے کے لیے منقولات کے ساتھ معقولات کی تعلیم پر بھی زور دیا۔ اس اہتمام سے جو نصاب تعلیم تیار ہوا وہ گیارہ اہم علوم وفنون پر مشتمل تھا ، ملا نظام الدین سہالوی دینی تدریسی نصاب کی ترتیب وتشکیل کے حوالے سے اس اعتبار سے بھی نمایاں اور معتبر تھے کہ انہوں نے نہ صرف درس نظامی کا نصاب وضع کیا بلکہ اپنے وضع کردہ نصاب کو ابتدائی طور پر اپنے نئے تشکیل شدہ مدرسہ عالیہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤ میں نافذ بھی کیا۔اس وقت دینی مدارس میں جو نصاب تعلیم رائج ہے اگرچہ وہ ’’درس نظامی‘‘ ہی ہے ،تاہم یہ اس کی ترمیم شدہ اور ترقی یافتہ شکل ہے۔اس میں علوم وفنون کی تعداد سترہ تک جاپہنچی ہے اور معقولات (Rational Sciences)کے بجائے زیادہ زور منقولات پر دیا ہے۔ جامعیت اور ادبی وفکری اعتبار سے اس کا پایہ اگرچہ بلند ہوچکا ، تاہم اس پر نظر ثانی اور اسے جدید تر کرنے کی ضرورت ہمہ وقت موجود رہی اور آج بھی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں