آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسٹاف رپورٹر)واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیرہانی مسلم نے بلدیاتی اداروں کی منظوری کے بغیر زیر تعمیر ہاؤسنگ اسکیم پر جاری کام کوپلان نوٹیفائی کرنے کا بھی حکم دیدیاہے،کمیشن نے قرار دیا ہے کہ پانی، بجلی، گیس اور سیوریج نظام کے بغیر شروع ہونے والی ہاؤسنگ اسکیمز غیر قانونی ہیں اور ایسی ہاؤسنگ اسکیمز جن کی منظوری ہوچکی اور کام شروع نہیں ہوسکا اور ان میں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں ان کی این او سی بھی منسوخ کر دی جائیں،آبی منصوبوں کےلیے رقوم جاری کرنے سے متعلق وفاق نے کمیشن کے سامنے یقین دہانی کرادی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن کی کارروائی ہوئی۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ عارف خان اور وفاقی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ شعیب صدیقی سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے کے فور منصوبہ کیوں سست روی کا شکار ہے۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان نے کہا کہ ہم پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔چیئرمین پلاننگ مجھے بتائیں کتنے پیسے درکار ہیں؟ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے چیئرمین ورکس اینڈ سروس وسیم احمد ناراض تھے کہ آپ ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ میں اپنی ہر غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے تیار ہوں، وسیم احمد ناراض

x
Advertisement

ہوتے ہیں تو ہوجائیں مجھے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، ہم پیسے دینے کے لئے تیار ہیں مگر یہ لوگ اپنی ذمہ داری کسی اورکو سونپ دیتے ہیں، کمیشن نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی آپ کمیشن کی سماعت پر حاضر ہوا کریں تاکہ آپ کی موجودگی میں معاملات جلد نمٹائے جاسکیں۔ کمیشن کے روبرو وفاقی سیکرٹری پلاننگ کمیشن شعیب صدیقی نے موقف اپنایا سیکرٹری خزانہ ہمیشہ سندھ حکومت کے معاملات کو سنجیدہ لیتے ہیں۔ سندھ حکومت ذمہ داری لے ہم انہیں ابھی پیسے دے دیں۔ کمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دیئے یہ ممکن نہیں کہ یہ لوگ وقت دے دیں، میں نے کے فور منصوبہ کا دورہ کیا انتہائی سست روی کا شکار ہے۔کمیشن کے سربراہ نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت چاہے بھی تو جلدی اس پروجیکٹ کو نمٹا نہیں سکتی۔ ابھی تو کے فور پروجیکٹ میں صرف پائپ ہی ڈل رہے ہیں، کے فور کے کنٹریکٹر نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں دھابیجی کی طرف سے پانی آرہا تھا۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے 10 سال تک منصوبے کا ڈیزائن تک نہیں بنایا گیا۔ کے فور کنسلٹنٹ میسر عثمانی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ ہائیڈرولیک سوفٹ ویئر کے مطابق معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ روٹ نہ دینے کی وجہ سے منصوبہ اتنے سال سست روی کا شکار ہوا ہے۔ واٹر کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے جو کوتاہیاں کی ہیں ان کا ازالہ ہونا چاہیے۔ عارف خان نے کہا کہ سندھ حکومت اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کو بھی وفاق ہر تھوپنا چاہتی ہے۔کمیشن نے ریمارکس دیئے دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ختم ہونا چاہئے۔ میں خود جاکر دیکھوں گا منصوبے میں کیوں تاخیر ہورہی ہے۔ شعیب صدیقی نے کہا کہ سندھ کے پانی کے منصوبوں کیلئے وفاق اور صوبہ کے مابین اچھا کوآرڈی نیشن رہا ہے۔ سندھ حکومت وعدے کے مطابق جون 2018 تک کے فور کی تکمیل کی یقین دہانی کرائے تو فنڈز ابھی دے دیں گے۔ کمیشن نے کہا کہ جس انداز سے منصوبہ پر کام ہورہا ہے وہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ڈپٹی کمشنر ملیر کی عدم حاضری پر کمیشن کے سربراہ برہم ہوگئے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے وفاقی سیکرٹری خزانہ اور سارے افسران یہاں موجود ہیں وہ نہیں آئے،غیر ذمہ داری کی انتہا ہوگئی، پتہ چلتا ہے کہ لوگ کتنی دلچسپی لے رہے ہیں کام کرنے میں۔ اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ راستے میں ہیں آرہے ہیں۔ نمائندہ کنسلٹنٹ کمپنی نے بتایا کراچی کا پانی کا کوٹہ مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں