آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان کا اغوا و قتل،تفتیشی ٹیم کو سی ٹی ڈی انسپکٹر عثمان آصف اور اسکے ساتھی علی حسن کیخلاف ناقابل تردید شواہد مل گئے

کراچی( افضل ندیم ڈوگر)فیڈرل بی ایریا میں اغوا برائے تاوان اور نوجوان کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کو گرفتار سی ٹی ڈی انسپکٹر آصف عثمان اور اس کے ساتھی علی حسن کیخلاف ناقابل تردید شواہد مل گئے ہیں پولیس ملزمان کو مزید ریمانڈ کے حصول کیلئے آج انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں پیش کرے گی۔ ملزمان پر نارتھ ناظم آباد کے رہائشی 32 سالہ اظفر امتیاز صدیقی کو 5 اپریل 2017 کو اغوا کے بعد فیڈرل بی ایریا بلاک 21 کے ایک بنگلے رکھ کر قتل کرنے کا الزام ہے۔ مقدمے میں ملزم علی حسن کا والد بھیگرفتار ہے جس پر علم ہوتے ہوئے بھی واردات کو خفیہ رکھنے کا الزام ہے۔ پولیس کی تفتیش اور ملزمان کے بیانات کے مطابق سی ٹی ڈی انسپکٹر آصف عثمان نے اپنے دوست علی حسن کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر 4 کروڑ روپے تاوان وصول کرنے کی منصوبہ بندی کے تحت نوجوان کو اغوا کرکے قتل کیا اور لاش بنگلے کے کچن میں گہرا گڑھا کھود کر دبا دی۔ پولیس کے مطابق ملزم علی حسن نے تمام واقعہ کے بارے میں اپنے والد کو انہی دنوں آگاہ کر دیا تھا مگر اس نے پولیس یا کسی دوسرے ادارے کو اطلاع نہیں دی۔ واردات کے گیارہ ماہ بعد ملزم کی نشاندہی پر لاش برآمد کی۔ ملزمان انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت سے چار دن کے ریمانڈ پر تھے۔ اس دوران پولیس نے 7 اے ٹی اےکی ایک شق کے

تحت ایس پی کے روبرو 21 ایچ کا بیان ریکارڈ کرادیا ہے، پولیس کے مطابق ملزمان کے موبائل فون کا سی ڈی آر بی حاصل کیا گیا ہے جبکہ علاقے کی جیو فینسنگ میں بھی ملزمان کا اس علاقے میں موجودگی کا ریکارڈ ہے، ملزمان نے اس دن مقتول سے بھی بات کی جبکہ قتل سے قبل دونوں گرفتار ملزمان نے ایک دوسرے سے واقعہ کے بارے میں 127 سیکنڈ گفتگو کی، پولیس اس سلسلے میں مزید تفتیش کررہی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں