آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت سندھ کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار ، نجی اسکولوں کی درخواستیں بھی مسترد کردیں،عدالت عالیہ نےاپنے حکم نامہ میں تمام نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو اضافی فیس اور لیٹ فیس کے نام پر وصولیوں سے بھی مکمل طورپر روک دیاہےاور قراردیاہےکہ نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ غیر قانونی ہے، حکومت سندھ کو فیسوں میں اضافے کیلئےدوبارہ جائزہ لے کر قوانین بنانے کا حکم دیاہے،فاضل بینچ کے سربراہ نے اپنے فیصلے میں ممتاز قانون دان مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین بھی پیش کیاہے،درخواستوں کی سماعت کے موقع پر طلبہ کے والدین ،نجی اسکولز انتظامیہ سمیت سندھ حکومت کے وکلا بھی موجود تھے،اس سے قبل ہونےوالی سماعت پر طرفین وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا،عدالت عالیہ نے پرائیوٹ اسکولز کی فیسوں میں اضافے کیخلاف دائر ہونےوالی 14آئینی درخواستوں پر فیصلہ پڑھ کرسنایا، عدالت عالیہ نے اپنے حکم نامہ میں تحریرکیا ہےکہ فیسوں کے اضافے سے متعلق سندھ حکومت کابنایا گیا 7(3)مکمل طورپر غیر موثر ہے عدالت اس قانون کو ہی ختم کرنے کا حکم دیتی ہے،سندھ حکومت کو ہدایت دی جاتی ہے کہ

x
Advertisement

آئندہ 90 روز میں آئین کے مطابق قانون سازی کی جائےیا پہلے سے بنائے گئے قانون میں مطلوبہ ترمیم کی جائے، عدالت نے قراردیاکہ نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے سے قبل اسٹیک ہولڈز باالخصوص والدین کو نہ صرف نوٹس جاری کیے جائیں بلکہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دے جو والدین کے اعتراضات اور تحفظات کو اچھی طرح سے سنے اور اس سلسلے میں ان سے تجاویز بھی لی جائیں ۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں