آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (طارق بٹ) قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) پاکستان کے قوانین میں بڑا منفرد ہے کہ وہ گرفتار ملزم کے لئے زیادہ سے زیادہ 90روز کا ریمانڈ فراہم کرتا ہے۔ یہ کالا اور ظالمانہ قانون ایک بار پھر سے اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب لاہور کی عدالت نے گرفتار بیورو کریٹ احد چیمہ کا نیب کی تحویل میں 11دن کی مدت مکمل ہونے کے بعد طویل مدت کا ریمانڈ دے دیا۔ صرف تحفظ پاکستان ایکٹ (پی پی اے) جو 2014میں تشکیل دیا گیا۔ غیرمعمولی حالات جیسے دہشت گردی میں گرفتار ملزم کی ریمانڈ پر 120 روزہ تحویل کی اجازت دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کو اسی قانون کے تحت طویل قید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کوئی اور قانون حتیٰ کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اتنا طویل ریمانڈ نہیں دیا جاتا۔ اس قانون کے تحت ریمانڈ کی مدت 30دن ہے۔ ابتداء میں 15روزہ ریمانڈ پر دیا جاتا ہے بعدازاں اس میں مزید 15دنوں کی توسیع ہوسکتی ہے۔ جس کے لئے عدالت کو مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ نیب کے 90روزہ ریمانڈ کی ایک وضاحت یہ دی جاتی ہے کہ سفید کالر جرائم کی تفتیش کا عمل بڑا پیچیدا ہوتا ہے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایسی صورت حال سے گزرنا پڑا جب انہوں نے حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بعدازاں مکر گئے۔ حال ہی میں سپریم کور ٹ نے اس کیس کو نمٹادیا۔ این

اے او چونکہ ملک کا قانون ہے تو اس پر نہ صرف احد چیمہ بلکہ تمام مقدمات میں عمل کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات آئین کے ماہر ایک وکیل نے بتائی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نیب کودستیاب حراست کا بڑا طویل عرصہ ہے۔ این اے او کے تحت نیب ایک ہی وقت ملزم کا 90روزہ ریمانڈ حاصل نہیں کرسکتا۔ ابتداء میں پندرہ روزہ ریمانڈ دیا جاتا ہے جس میں 90روز کی مدت کے لئے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ پولیس یا کسی بھی تفتیشی ادارے کے تحت ریمانڈ میں توسیع نہیں دی جانی چاہئے۔ جب تک آئی او عدالت کو مطمئن نہ کردے او ر یہ ریمانڈ بھی 30روز سے زائد نہیں ہونا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں