آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ٹھٹھہ(رپورٹ/ شاہد صدیقی)حکومتی عدم توجہ کے باعث جامع مسجد شاہجہان خستہ حالی کا شکار، دیواروں میں دراڑیں پڑنے کے بعد گزشتہ روز مسجد کی کھڑکی کی اینٹیں بھی گر گئیں۔ تاریخی عمارتوں کو ثقافت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور مغل بادشاہ شاہجہان کے عہد میں سترہویں صدی کے وسط میں ٹھٹھہ میں تعمیر کی گئی جامع مسجد شاہجہاں بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ مغلیہ طرز تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے تاہم متعلقہ حکومتی اداروں کی عدم توجہ، مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کے باعث اس وقت جامع مسجد شاہجہاں کی عمارت مخدوش ہوگئی ہے، مسجد کی دیواروں میں کئی مقامات پر دراڑیں پڑ گئی ہیں، گنبذوں میں کبوتر، چڑیوں اور دیگر پرندوں نے آشیانے بنا رکھے ہیں جبکہ اتوار کی شب مسجد کے بائیں جانب کی بیرونی کھڑکی کی باقی ماندہ اینٹیں بھی دھڑام سے گر گئیں، مسجد کے خطیب قاری عبدالباسط صدیقی جن کا خاندان گذشتہ کئی نسلوں سے مسجد کے شاہی خطیب کے طور پر فرائض انجام دے رہا ہے کا کہنا ہے کہ زندہ اقوام اپنی تاریخی عمارات کو اصل حالت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں لیکن ہمارے حکمران جامع مسجد شاہجہان کو صرف کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مسجد کی دیواروں اور گنبدوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، ان دیواروں کے قریب کھڑے ہوکر لوگ نماز

پڑھتے ہیں جنہیں خطرہ لاحق رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد شاہجہان کی اصل حالت کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں