آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ6؍ ربیع الثانی 1440ھ 14؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(صباح نیوز) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ جن کا کام ہے انہوں نے نہیں کیا، خدمت کرنے آئے ہیں تو خدمت کریں، ہم ہدایات بھی نہ دیں تو اپنے بچوں کوکیا دے کرجائیں گے، ہم بولتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارے کام میں مداخلت ہورہی ہے۔ پیر کوسپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس دوران سروے جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد کب سے بنا ہوا ہے لیکن ڈرافٹ رولز نہیں بنے، صدیاں گزر گئی ہیں اسلام آباد میں رولز کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ہم بولتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے کام میں مداخلت ہورہی ہے، کہتے ہیں کہ عدلیہ ایگزیکٹو اتھارٹی میں مداخلت کررہی ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ جن کا کام ہے انہوں نے کیا نہیں، خدمت کرنے آئے ہیں تو خدمت کریں، ہم ہدایات بھی نہ دیں تو کیا دیکرجائینگے اپنے بچوں کو۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وزیرکیڈ طارق فضل چوہدری کو بھی طلب کرلیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں