آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ میں مقتدر حلقوں سے کہتا ہوں کہ اگر اس شہر کے لوگوں کو مرکزی سیاست سے الگ رکھنے کی کوشش کی گئی تو یہ نقصان دہ ہوگا اور اس کا فائدہ ملک دشمن قوتیں اٹھا سکتی ہیں۔ ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کی صورتحال سے سیاسی اور جمہوریت پسند لوگوں کو تکلیف ہوئی ۔ایک منصوبہ بندی کے تحت مہاجروں کو سندھ کے شہری علاقوں کی مرکزی سیاست سے الگ کیا جارہا ہے۔میں نے ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان کو فون کر کے درخواست کی تھی کہ معاملات کوگھر میں بیٹھ کر حل کریں ۔یہ وقت لڑائی جھگڑے کانہیں ہے۔میری کوشش ہوگی کہ شہر کے معززین اور بزرگوں کو بیچ میں ڈال کر معاملے کو حل کراؤں۔میں نے پہلے کبھی ایم کیو ایم کے لوگوں کو اپنی پارٹی میں قبول نہیں کیا تھا لیکن اب دعوت دیتا ہوں کہ جو لوگ کسی جرائم میں ملوث نہیں ہیں وہ مہاجروں کے اس پلیٹ فارم پر آکر متحد ہوجائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ ڈیفنس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔آفا ق احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کی جانب سے جو صورتحال دیکھی ہے وہ تکلیف دہ عمل ہے جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے یہ تاثر تھا کہ ہم کوئی کردار ادا نہیں کر رہے ہیں جبکہ دکھ تو مجھے بھی تھا کیونکہ جو لڑ رہے تھے وہ

میری قوم کا ہی حصہ ہیں۔مہاجر ایک پڑھی لکھی قوم ہے یہ ان کو زیب نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ آپ اس مسئلے کو حل کرائیں لیکن میں سمجھ تھا کہ میری مداخلت سے کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے اور مجھے خدشہ تھا کہ کہیں مہاجر تقسیم نہ ہوجائیں ۔اب شہری علاقوں کے عوام خود جائزہ لیں اور آئندہ دنوں میں کوئی فیصلہ کریں ۔ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں میں شہری مینڈیٹ سنبھالنے کی صلاحیت کا فقدان نظر آرہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مرکزی سیاست سے الگ رکھنا چاہتے ہیں ۔ایم کیو ایم کی لڑائی کے باعث ہم سینیٹ میں ایک سیٹ لے سکے ۔افسوس سے کہتا ہوں جو لوگ بھی دست وگریباں ہیں وہ میری قوم کا حصہ ہیں ۔آفاق احمد نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان کوفون کر کے کہا کہ جو بھی حالات پیدا ہوئے اس میں ہماری قوم کا نقصان ہو رہا ہے آپ کے جو بھی معاملات ہیں ان کو گھر میں بیٹھ کر حل کریں ۔یہ جھگڑے کا وقت نہیں ہے۔تصادم کا راستہ ترک کر کے ڈائیلاگ کا راستہ اپنایا جائے۔سینیٹ میں شہری علاقوی کی نمائندگی کم ہونے پر دکھی ہوں ۔ سینٹ میں نمائندگی نہ ہونے کی ذمہ داری جن پر آتی ہے قوم انھیں معاف نہیں کرئے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں