آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ذوالحجہ 1439ھ 21؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(وقائع نگار) ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے آصف علی زردار ی نے سینٹ میں اپنی پارٹی کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرانے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے اور سینیٹروں سے رابطے تیز کردئیے ہیں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف آزاد گروپوںکے ساتھ مل کر ہی کوئی نتائج حاصل کرسکتی ہے،آصف علی زرداری نے آزاداراکین اسمبلی سے بھی رابطوں کیلئے اہم رہنمائوں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں اور رابطوں کیلئے گروپ بنائے جارہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ خورشید شا ہ کو بھی تحریک انصاف کے رہنمائوں سے بھی رابطوں کی ذمہ داری سونپی ہے جبکہ رضا ربانی ، اعتزاز احسن ، نیئر بخاری، قیوم سومرو،فیصل کنڈی کو بھی رابطوںکی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ ذرائع نے بتایا اگرچہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کےسینیٹروں کی تعداد میںخاصا فر ق ہے تاہم پیپلز پارٹی کے قائدین کا خیال ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز حکومت کے خلاف متحد ہوجائیں تو ایسی صورت میں کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ادھر حکومت کے سینیٹرز کی تعداد بھی سینتیس ہوگئی ہے اور حکومت کے حلیف جماعتوں کو ملا کر ان کی تعداد انچاس کے لگ بھگ بنتی ہے جبکہ چیئرمین کیلئے ترپین ووٹوں کی ضرورت ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف آزاد

گروپوںکیساتھ ملکر ہی کوئی نتائج حاصل کرسکتی ہے اور اگر تحریک انصاف نے اپنی الگ سیاست کی تو مسلم لیگ (ن) کو چیئرمین سینٹ اورڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے حاصل کرنے سے روکنا بہت مشکل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ رضا ربانی کو بھی ایوان میںپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے دوسری طرف حکومت کی طرف سے راجہ ظفر الحق کےعلاوہ سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر مشاہد حسین سید کو بھی میدان میں اترا جاسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر میاں نواز شریف نے اپنی موجودہ جارہانہ پالیسی کو آگے بڑھایا تو ان کے قابل اعتماد ساتھی سینیٹرپرویز رشید ہی چیئرمین سینٹ کیلئے مضبوط امیدوار ہونگے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں