آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد ( ٹی وی رپورٹ، آن لائن ) چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے جوڑ توڑ اور نمبر گیم عروج پر ہے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اور مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے کیلئے پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کو مشترکہ کوشش کی پیشکش کی ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے سیاسی جماعتوں نے رابطے شروع کردیئے اور اسی سلسلے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق کی صورت میں پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ اپنے پاس اور ڈپٹی چیئرمین شپ کا عہدہ تحریک انصاف کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رابطہ کاروں نے پیپلز پارٹی کی پیشکش اعلیٰ قیادت تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔آن لائن کے مطابق سینیٹ الیکشن کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، روٹھنے اور منانے کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رابطہ کاروں کے درمیان پس پردہ رابطے کا آغاز ہو چکا ہے پیپلز پارٹی سینیٹر شیریں رحمان کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کیلئے سرگرم ہو گئی جبکہ پیپلز پارٹی نے کسی بھی صورت حکمران جماعت ن لیگ سے متفقہ چیئرمین سینیٹ لانے

سے انکار کردیا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے علاوہ باقی پارٹی کے رہنما پیپلز پارٹی کا سینیٹ چیئرمین متفقہ طور پر لانے کیلئے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مسلم لیگ ( ن ) کا راستہ روکنے کیلئے سینیٹ کے اہم عہدوں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے مشترکہ امیدوار لانے کیلئے آپشنز پر غور کرنے کا آغاز کردیا ہے، جسکے تحت چیئرمین کیلئے پیپلز پارٹی اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار میدان میں لائے جائینگے، کل دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان باضابطہ مذاکرات ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ تحریک انصاف سے مثبت ردعمل نہ ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے ارکان کو ساتھ ملا کر اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین لانے کیلئے بھی غور شروع کردیا ہے، جس کیلئے بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد اراکین سینیٹ سے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے بھی ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب آصف زرداری کے دست راست ڈاکٹر عبدالقیوم آج کراچی کے مقامی ہوٹل میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرینگے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے مشاورت کی جائے گی۔ واضح رہے کہ تازہ ترین عددی صورت حال کے تحت ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان کی تعداد 33 ہے تاہم فاٹا کے آزاد رکن مرزا محمد آفریدی کی شمولیت کے بعد مجموعی تعداد 34 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 21 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور پی ٹی آئی 12 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہیں اس لحاظ سے فاٹا کے آزاد اراکین اور اتحادیوں کی حمایت سے ( ن ) لیگ چیئر مین سینیٹ بنانے کی پوزیشن میں بھی آگئی ہے تاہم پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو بآسانی شکست دے سکتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں موجودہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور ڈپٹی چیئرمین عبدالغفور حیدری کے جانشین کے طور پر کون سی جماعتوں کے ارکان کا انتخاب ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں