آپ آف لائن ہیں
پیر 03 شوال المکرم 1439ھ 18؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(ٹی وی رپورٹ)پیپلزپارٹی کا ن لیگ کو اپنا چیئرمین سینٹ لانے کا چیلنج،اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی کریم احمد خواجہ نے کہا کہ کل پرسوں سے ہارس ٹریڈنگ کی بات عروج پر ہے،اتنا شورکیا جارہا ہے،کہیں ایسا تو نہیں کہ الیکشن کو سبوتاژ کردیا جائے،بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ن لیگ میں ہمت نہیں کہ کھل کر بات کریں۔سندھ میں سینٹ الیکشن میں ہمیں ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے فائدہ حاصل ہوا۔ پنجاب میں ہماری کوئی سیٹ نہیں تھی وہاں سارا کھیل تحریک انصاف نے دکھایا۔ پروگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنماء راناثناء اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہارس ٹریڈنگ سینٹ کے انتخابات میں ہوئی ہے ۔ سب سے زیادہ ہارس ٹریڈنگ تحریک انصاف نے کی۔سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ملوث ارکان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔سینئر تجزیہ کار عارف نظامی کا ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ہارس ٹریڈنگ ہوتی رہی ہے۔ یہ کہا گیا کہ چیف جسٹس ہارس ٹریڈنگ کا نوٹس لیں، وہ ایسا کیوں کریں کیوں کہ ممبر اسمبلی اپنے رائے دہی کے لیے مکمل آزاد ہیں،انکی مرضی وہ کس کو ووٹ دیں۔اس میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی والی کوئی بات نہیں ہے۔ایم کیو ایم کا شیرازہ کافی دیر سے بکھر رہا تھا اگر

x
Advertisement

زرداری صاحب نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے تو کیا برا کیا۔سینیر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف کے لوگوں نے ہارس ٹریڈنگ کی ہے تو اس پر خود عمران خان صاحب کو ایکشن لینا ہوگا،کل سے مخصوص پراپیگنڈا شروع ہوگیا،سینٹ کے لیے جہوری نظام کے لیے، بلوچستان میں جس طرح سے انجینئرنگ ہوئی اس کا پس منظر پیش نہیں کیا گیا جس سے جمہوری نظام پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمیں اس کی صاف و شفاف انکوائری کرانا ہوگی تاکہ کل کوئی یہ انگلی نہ اٹھائے کہ پارلیمانی نظام میں خریدو فروخت ہوتی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ تو کئی عرصے سے جاری ہے اور ایک دم سے ہارس ٹریڈنگ کی گونج اٹھی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہورہا ہے اور اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ ہے،کیا مسلم لیگ ن رضا ربانی صاحب کو سپورٹ کرے گی؟ جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ایک ایسا آدمی سینٹ کا چیئرمین ہونا چاہیے جو جمہوریت پسند ہو۔ موجودہ صورتحال میں ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو اسٹینڈ لے سکے،اس کے لیے راجہ ظفر الحق اور پرویز رشید کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے جہاں تک رضا ربانی صاحب کا تعلق ہے اس پر بھی سب لوگ متفق ہیں،پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی سب اپنی اپنی جماعت کے فیصلے کی پابندی کریں گے لیکن کسی بھی جماعت کے سینیٹرز سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ رضا ربانی کا کردار جمہوریت پسند فورسز کے لیے بہت حوصلہ افزا تھا اور انھوں نے بہت اچھا کردار ادا کیا۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ اگر پیپلزپارٹی ان کو نامزد کرتی ہے تو اس پر مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی میں کیا فیصلہ ہوگا لیکن اس بارے میں سوچا ضرور جائے گا۔ رہنماء پیپلزپارٹی کریم احمد خواجہ نے کہا ابھی چیئرمین سینٹ پر جماعت میں مشاورت ہوگی جو فیصلہ لیڈر شپ کرے گی وہ جمہوریت پسندوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پاس نمبرز نہیں ہیں،یہ بھی اتفاق رائے سے ہونا ہے،میرے خیال سے رضا ربانی صاحب شاید پیپلزپارٹی کو اتنے قبول نہ ہوں جتنا کہ ن لیگ کو ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں