آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ سینیٹ انتخابات میں چوہدری سرور کے ووٹ بڑھے تو ہمارے امیدوار کے ووٹ بھی بڑھے، سینیٹ انتخاب میں لوگوں نے تعلق کی بنیاد پر بھی ووٹ دیئے ہیں، یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ اس پر واویلا کرنا شروع کردیں، حلفاً کہتا ہوں ہم نے کسی کو پیسوں کی پیشکش نہیں کی اور نہ ہم سے کسی نے ایسی بات کی، یہ خبریں ہم تک ضرور پہنچیں کہ کچھ ارکان کو فون کالز آرہی ہیں جبکہ پیسہ کے بار ے میں بھی باتیں سننے میں آئیں، پنجاب میں پیسہ چلنے کا ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس طرح خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں ہوا، ایک لیڈر خود کو کلین اور اپنی پارٹی کو کرپٹ کہتا ہے، کسی لیڈر کو اپنی پارٹی کو گندی اور کرپٹ قرار دینا زیب نہیں دیتا ہے، چوہدری سرور کی جیت پر حمزہ شہباز کی سرزنش کی خبر بالکل غلط ہے، جس دن ووٹنگ ہوئی پنجاب اسمبلی کے وزراء اور ارکان کی ٹیم تمام معاملات کو دیکھ رہی تھی، پنجاب میں کوئی بڑی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی،سب کی قسم نہیں دے سکتا ممکن ہے کسی نے لالچ بھی کیا ہو، ن لیگ کی پنجاب سے گیارہ نشستیں بنتی تھیں بارہویں کیلئے ہماری کوشش تھی۔ ایم کیوا یم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ فاروق ستاریا

خالد مقبول صدیقی کے پاس بانی متحدہ والی اتھارٹی نہیں ہے، اسی وجہ سے ہم ایم کیو ایم کو مشاورتی عمل کے ذریعہ چلانا چاہتے تھے، ایم کیوا یم کو عمومی مسائل کا سامنا ہے جو 23اگست کے بعد ہونا تھا، ایک دفعہ اس مرحلہ سے نکل آئے تو مشاورتی عمل بڑھ کر جمہوری عمل تک جائے گا، ہم اپنی پالیسیاں خود ہی بنارہے اور ان پر عملدرآمد بھی خود کررہے ہیں، ایم کیو ایم کے جن ایم پی ایز نے پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیئے وہ اپنے عمل کے دفاع میں بھونڈی دلیل گھڑ رہے ہیں، کسی رکن اسمبلی پر پیسے لے کر ووٹ دینے کا الزام نہیں لگارہا ہوں، اگر کوئی تنظیم کی صورتحال سے دلبرداشتہ تھا تو اس کے پاس پیپلز پارٹی کوووٹ دینے کے بجائے بہت سے آپشنز تھے، ایم کیو ایم ارکان چاہتے تو گھر بیٹھے رہتے یا فنکشنل لیگ کو ووٹ دیدیتے۔ فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی میں اضطراب ہے، ہم ایم کیو ایم کا دھڑا نہیں ہیں، جس موقف کو درست سمجھتا ہوں وہاں پر یعنی بہادرآباد میں موجود ہوں، ممکن ہے ہم نے بہادرآباد میں بیٹھ کر شاید کچھ غلطیاں کی ہوں ، مجھ سمیت بہت سے لوگ تمام معاملات کو سمیٹنے کیلئے نیک نیتی کے ساتھ کوششیں کررہے ہیں، اگر علم ہوتا کہ کامران ٹیسوری کو ٹکٹ کے معاملہ پر محاذ آرائی اس حد تک بڑھ جائے گی کہ دو الگ الگ لیبر ڈویژن کے کنونشن ہوجائیں گے تو شاید میں اس کا حصہ نہیں بنتا،سردار احمد کے گھر پر ملاقات میں خالد مقبول صدیقی نے تجویز دی کہ دونوں گروپس کی رابطہ کمیٹیاں بطور کارکنان کام کرنا شروع کردیں اور انتخابات کروا کے نئے لوگوں کو چن لیں، یہ تجویز بھی دی گئی کہ فاروق ستار، کامران ٹیسوری، عامر خان اور خالد مقبول صدیقی سمیت متنازع ہونے والے لوگ گھر چلے جائیں، ہم نے کنوینر کیلئے ایم کیو ایم کے پرانے کارکن ایم این اے عبدالوسیم بھائی کا نام تجویز کیا جو اس وقت فاروق ستار کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہمیں ان کی نیت اور عمل پر قطعاً کوئی شک نہیں ہے۔میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر خدشات، تحفظات کے ساتھ سینیٹ کی 52 نشستوں پر انتخابات ہوگئے، اب یہ سوال ملکی سیاست میں گونج رہا ہے کہ آئندہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا، کون سی جماعت چیئرمین سینیٹ بنانے میں کامیاب ہوجائے گی، اس کیلئے جوڑتوڑ جاری ہے، نئے اتحاد بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں، کون کس کا ساتھ دے گا، کون سی جماعتیں کس امیدوار کو میدان میں اتاریں گی یہ ابھی واضح نہیں البتہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ فعال دکھائی دے رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ ایم کیوا یم کے ارکان کو پیسے دینے کے الزام کی سختی سے تردید کرتا ہوں، سندھ میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے معاملات وزیراعلیٰ سندھ خود دیکھ رہے تھے، اس عمل میں میرے علاوہ دوسروں کا بھی کردار تھا، پیپلزپارٹی سندھ میں دس نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں تھی، ایم کیو ایم کے اندر انتشار کے بعد اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد 35سے زیادہ نہیں تھی، اتنے ووٹوں سے ایم کیو ایم ٹیکنوکریٹ یا خواتین کی نشستیں نہیں جیت سکتی تھی، اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کیلئے ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی دو دو نشستوں کے علاوہ پانچ جنرل نشستیں جیتنے کی توقع تھی جو ہم نے حاصل کیں، خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کا اتحاد جے یو آئی ف کے ساتھ تھا، جے یو آئی ف نے ہمیں خواتین کی نشست پر جبکہ ہم نے انہیں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر ووٹ دیا، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ارکان اپنی قیادتوں سے نالاں تھے، پی ٹی آئی کے چوہدری سرور اور فنکشنل لیگ کے مظفر حسین شاہ نے اپنی تعداد سے زیادہ ووٹ لیے، مظفر حسین شاہ نے اسمبلی میں پارٹی پوزیشن سے دگنے ووٹ لیے، عمران خان سب پر ایک ہی فارمولا لاگو کریں کہ جس نے بھی زیادہ ووٹ لیے پیسے دے کر لیے ہوں گے، ایم کیو ایم کو صرف جنرل نشست پر اپنی تعداد سے کم ووٹ پڑے اس کی وجہ کامران ٹیسوری کے نام پر اختلاف ہوسکتی ہے، ممکن ہے ایم کیو ایم کے ارکان نے ٹیسوری کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر یا ووٹ خراب کر کے کیا ہو۔ میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر خدشات، تحفظات کے ساتھ سینیٹ کی 52 نشستوں پر انتخابات ہوگئے، اب یہ سوال ملکی سیاست میں گونج رہا ہے کہ آئندہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا، کون سی جماعت چیئرمین سینیٹ بنانے میں کامیاب ہوجائے گی، اس کیلئے جوڑتوڑ جاری ہے، نئے اتحاد بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں، کون کس کا ساتھ دے گا، کون سی جماعتیں کس امیدوار کو میدان میں اتاریں گی یہ ابھی واضح نہیں البتہ پیپلز پارٹی سب سے زیادہ فعال دکھائی دے رہی ہے، سینیٹ انتخابات کے بعد ن لیگ سینیٹ کی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی مگر اکیلے چیئرمین سینیٹ لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ن لیگ کے پاس 34ووٹ جبکہ چیئرمین سینیٹ کیلئے 53 ووٹوں کی ضرورت ہوگی، ن لیگ اتحادیوں کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ لاسکتی ہے، پیپلز پارٹی سینیٹ میں دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے، اس کے پاس بیس ووٹ ہیں اگر وہ چیئرمین سینیٹ لانا چاہے تو اسے مزید 33ووٹوں کی ضرورت ہے جس کیلئے اسے کئی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانا ہوگا،سینیٹ میں تیسری بڑی جماعت پی ٹی آئی ہے جس کے سینیٹرز کی تعداد 12ہوگئی ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعد سب سے بڑی تعداد آزاد سینیٹرز کی ہے،14 آزاد سینیٹرز میں بلوچستان سے کامیاب ہونے والے 6سینیٹرز بھی ہیں جن کی حمایت حاصل کرنے کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے، یہ چھ سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں