آپ آف لائن ہیں
اتوار دو شوال المکرم 1439ھ 17؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) معروف سیاسی ومزدور رہنما کامریڈ جام ساقی طویل علالت کے بعد 73برس کی عمر میں انتقال کرگئے ‘مرحوم کی نماز جنازہ نسیم نگر جبکہ تدفین بابن شاہ قبرستان میں ہوئی ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی وقوم پرست رہنماؤں نے جام ساقی کے انتقال پر گہرے دکھ کااظہار کیاہے۔ محمدساقی المعروف کامریڈ جام ساقی 31اکتوبر 1944ءمیں تھرپارکر میں پیداہوئے ۔انہوں نے سیاسی جدوجہد کا آغاز طالب علمی کے دورسے شروع کیا ۔ وہ سندھ نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے بانی‘ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل اورون یونٹ کے خلاف تحریک کے بانی رہنما تھے ۔ کامریڈ جام ساقی نے محنت کشوں‘ کسانوں ‘خواتین اور طلبہ جدوجہد میں اہم کردارادا کیا جس کی وجہ سے وہ 15سال تک پابند سلاسل رہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کاآغاز 1961ءمیں حیدرآباد اسٹوڈنٹ فیڈریشن سے کیا‘1972 میں نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیارکی۔ بعدازاں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ جام ساقی کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءدور 1978ءمیں گرفتار کیاگیا اور 1980ءمیں ملٹری کورٹ میں شہید بے نظیر بھٹو نے جام ساقی کے لئے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ جام ساقی ایک وطن پرست ہیں ان کو رہا کیا جائے۔ جام ساقی سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید

x
Advertisement

عبداللہ شاہ کے معاون خصوصی ‘انسانی حقوق کمیشن کے رکن اور 7کتابوں کے مصنف تھے ۔مرحوم کے سوگواران میں بیوہ‘ 3بیٹے اور 3بیٹیاں شامل ہیں ۔مرحوم کی نماز جنازہ و تدفین میں ایس یو پی کے زین شاہ‘ دودو مہیری‘ سابق ایڈوکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری‘ ڈاکٹر بدرچنا‘ قمر زمان راجپر‘ مہیش کمار سمیت سیاسی وسماجی رہنماؤں اور عمائدین شہر نے شرکت کی۔ کامریڈ جام ساقی کے انتقال پر عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو‘ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری‘ ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹرقادر مگسی‘ قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو ‘کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کامریڈ امداد قاضی‘ جسقپ کے چیئرمین قمر بھٹی ‘دودو دیشی ودیگر نے گہرے دکھ کااظہار کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں