آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ جیو گروپ کے خلاف بغیر ثبوت جھوٹے، سنگین الزامات لگانے پر عمران کی 9 مارچ کو عدالت میں طلبی

جنگ جیو گروپ کے خلاف بغیر ثبوت جھوٹے، سنگین الزامات، عدالت میں عمران کی 9 مارچ کو طلبی

اسلام آباد (عاصم جاوید) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد سکندر خان نے جنگ جیو گروپ کے خلاف جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 9 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، انڈیپنڈنٹ نیوز پیپرز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ، نیوز پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایڈیٹر انچیف و چیئرمین جنگ گروپ میر شکیل الرحمن نے جھوٹے ، بے بنیاد ، من گھڑت اور بغیر ثبوت الزامات لگانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ فاضل جج کے روبرو سماعت کے موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے عامر عبداللہ عباسی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2014ءسے جنگ جیو گروپ اور اس کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمن پر بلا ثبوت الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اس حوالے سے انہوں نے لیگل نوٹس کا جواب بھی نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتک عزت کا عام کیس

نہیں بلکہ عزت کے قتل عام کا مقدمہ ہے لہٰذا عمران خان کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر غیر مشروط معافی مانگنے ، اس کی تشہیر کے انتظامات کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، انڈیپنڈنٹ نیوز پیپرز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، نیوز پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایڈیٹر انچیف و جنگ گروپ میر شکیل الرحمن نے سینئر وکیل عامر عبداللہ عباسی کے ذریعے دائر دعویٰ میں عمران خان کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر غیر مشروط معافی مانگنے ، اس کی تشہیر کے انتظامات کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جنگ گروپ کو بدنام کرنے کے لئے 2014ءسے الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، ادارہ جنگ نے غیر جانبدار معزز شہریوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے الزامات کی جانچ کے لئے خود کو پیش کیا مگر عمران خان نے اس پیشکش کو تسلیم کرنے کی بجائے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور مختلف اوقات اور مواقع پر جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کو بلیک میلر، فرعون اور میڈیا گاڈ فادر قرار دیا۔ نوازشریف اور حکومت سے رقم اور اشتہارات لینے کے بھی الزامات لگائے، ان الزامات کا مقصد عوام کی نظر میں گروپ میر شکیل الرحمن اور ادارے سے منسلک صحافیوں کو متنازع، جانبدار بتانا ہے، عمران خان یہ الزامات 2014ء سو سو بار دہرا چکے ہیں۔عمران خان نے جنگ جیو گروپ پر الیکشن 2013ءمیں دھاندلی میں ملوث ہونے، پاکستان سری لنکا کرکٹ سیریز کے رائٹس ملی بھگت سے حاصل کرنے، بیرون ممالک سے مالی مفادات حاصل کرنے، ملک دشمنی اور پاکستان میں بھارت و امریکا کا ایجنڈا سیٹ کرنے کے الزامات عائد کئے۔ عمران خان نے بھارت اور امریکا کے ساتھ گٹھ جوڑ اورفارن فنڈنگ کے ذریعے غیر ملکی بیانیے کو سپورٹ کرنے کے الزامات عائد کر کے حب الوطنی کے حوالے سے عوام کے دلو ں میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے جنگ جیو گروپ پر حکومت سے مالی فوائد حاصل کرنے کا بھی الزام لگایا جبکہ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ پاناما پیپرز اسکینڈل کو سب سے پہلے جنگ جیو گروپ نے عوام تک پہنچایا جسکے نتیجے میں منتخب وزیر اعظم کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جنگ جیو گروپ قانون کے مطابق تمام مالی حسابات اور اثاثہ جات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ عمران خان کے علاوہ کسی مجاز ادارے نے جنگ جیو گروپ کے خلاف کسی قسم کی بے ضابطگی کی شکایت نہیں کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے ادارہ جنگ گروپ صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات اور مصدقہ معلومات کی فراہمی کی بدولت عوام الناس میں مقبول اور ہردلعزیز ہے۔ جنگ گروپ نے سماجی بہبود ، صحت ، تعلیم اور قومی سطح پر ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں اہم اور نمایاں خدمات انجام دیں۔ جنگ جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف و چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمن معروف صحافی اور میڈیا پرسنیلٹی ہیں، وہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے بانی صدر ہیں اور کئی سالوں تک کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر رہ چکے ہیں۔ جولائی 2005ءمیں امریکی میگزین ’’بزنس ویک‘‘ نے ان کا نام ’’ٹوینٹی فائیو اسٹارز آف ایشیا‘‘ میں شمار کیا۔ جنگ جیو گروپ نے صحافت کے علاوہ میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن (ایم کے آر ایف)، امن کی آشا اور پکار کے ذریعے انسانیت کی فلاح اور امن کے فروغ کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر خدمات انجام دیں۔ ماضی میں عمران خان نے بھی جنگ گروپ کے ساتھ مل کر سماجی بہبود اور سیلاب زدگان کے لئے کام کیا اور 2014ءسے قبل مختلف انٹرویوز میں انہوں نے جمہوریت کے فروغ کے لئے جنگ گروپ کی خدمات کو سراہا۔ مگر اپریل 2014ءسے لے کر تاحال عمران خان جنگ جیو گروپ کو بدنام کر رہے ہیں۔ ماضی میں ایسے ہی الزامات نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نے بھی لگائے جس پر لندن کی عدالت نے کیس کیا گیا اور ہائی کورٹ آف جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن برطانیہ نے جنگ گروپ کے حق میں فیصلہ دیا۔جبکہ پاکستان میں یہ مقدمہ اب بھی زیر سماعت ہے۔ عمران خان نے متعدد بار عوام کو جنگ جیو گروپ کے خلاف اکسایا ، ان کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی وجہ سے نہ صرف ادارہ جنگ گروپ کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ ادارہ سے منسلک تمام افراد اور ان کے لواحقین کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے۔ عمران خان کے تمام تر الزامات جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جس کا مقصد جنگ جیو گروپ کو بدنام کرنا اور عوام الناس کی نظر میں اس کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے لیگل نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا۔ عمران خان کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی وجہ سے نہ صرف عوام الناس کی نظر میں ادارہ جنگ کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ اسے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ذہنی کوفت اور پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جنگ گروپ نے معزز شہریوں پر مشتمل کمیٹی کے زریعے ان الزامات کی جانچ پڑتال کیلئے خود کو پیش کیا مگر عمران خان نے یہ پیشکش قبول کرنے کی بجائے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور حب وطنی کے حوالے سے عوام میں گروپ کے بارے میں شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کے ٹی وی چینلز کو دئیے گئے انٹرویوز، پریس کانفرنسز ، جلسوں سے خطاب اور ٹویٹس کو درخواست کا حصہ بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو جھوٹے الزامات عائد کرنے پر عوام کے سامنے غیر مشروط علی اعلان معافی مانگنے اور اس کی تشہیر کرنے کا حکم دیا جائے بصورت دیگر ایک ارب روپے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں اور قانون کے مطابق ہتک عزت کے دعویٰ کا تین ماہ میں فیصلہ کیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں