آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ ذوالحجہ1439ھ 22؍ اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک چین اقتصادی راہداری اور توانائی سے متعلق دیگر منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا چاہئے،جر من سفیر

پاک چین اقتصادی راہداری اور توانائی سے متعلق دیگر منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا چاہئے،جر من سفیر

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ،جنگ نیوز) جر من سفیر مارٹن کوبلر نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور توانائی سے متعلق دیگر منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا چاہئے۔ گزشتہ روز جنگ میڈیا گروپ کی طرف سے ’’پاک پاور پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل‘‘ پر قومی سیمینار سے خطاب میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے اس قومی سیمینار میں دعوت دینے پر جنگ اور جیو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی گلوبل ٹرانزیکشن transextion ضروری ہے اور یہ جاری بھی ہے ہم نے اپنے توانائی کو متبادل ذرائع پر منتقل کیا ہے۔پہلے متبادل ذرائع کا حصہ 46فیصد تک تھا اب 90فیصد ہے بلکہ یکم جنوری سے 100فی صد انڈسٹری متبادل ذرائع پر ہے۔ہمیں تیل کے متبادل ذرائع پر بھروسہ کرنا ہوگا اور نجی شعبہ کو اس میں آگے لایا جائے۔میں نے 100میگاواٹ سولر منصوبہ میں لاہور کا دورہ کیا، ترکی کے انجینئر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک ریسرچ پر زور دیتے ہیں پاکستان کو خودریسرچ کرنی چاہئے۔ متبادل ذرائع پر خود انحصاری کے لئے امریکہ، چین، جرمنی

کی طرح ریسرچ پر بھی خود انحصاری پر زور دینا چاہئے۔ غیرملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا چاہئے پاکستان میں چین کے سفیر مسٹر یوزنگ نے کہاکہ اس خصوصی سیمینار پرجنگ اور جیو گروپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاور سیکٹر کی بہتری کیلئے جن نکات کا وفاقی وزیر نے ذکر کیا ہے ان سے اتفاق کرتا ہوں ہم پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں خصوصاً سی پیک اور اس کے علاوہ توانائی کے شعبوں میں مثالی تعاون جاری ہے پاکستان ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ترقی اس کی معیشت اور عوام کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں دیگر انٹرنیشنل پارٹنرز کو بھی ہوناچاہئے کہ وہ پاکستان کو پاور سیکٹر میں مکمل تعاون کریں اس وقت 19پاور پراجیکٹ پر چین پاکستان کی مدد کررہا ہے جبکہ 6پراجیکٹ پرکام مکمل ہوگیا۔ 11000میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک میں متبادل ذرائع میں غیر ممالک سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر نے جن اقدامات کا ذکر کیا ہے اس سے اتفاق کرتے ہیں تاہم پاور سیکٹر میں پیداوار طلب اور تقسیم کے لئے جامع حکمت عملی ہونی چاہئے۔ سیمینار سے بہتری کی متعدد تجاویز سامنے ائیں گی اور سی پیک پاکستان کی ترقی میں نہ صرف معاون ثابت ہو گا بلکہ پاور سیکٹر ترقی کرنے سے پاکستان ترقی کی شاہراہ پرگامزن ہو گا۔چینی سفیر کے خطاب کے بعد امریکہ کے پاکستان میں سفیر ڈیوڈ ہیل، جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر اور ترکی کے سفیر احسان مصطفےٰ اور پیپکو کے ڈی جی مصدق خان کے درمیان پینل کی سطح پر مباحثہ ہوا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ 70سال سے پاکستان کے ساتھ اس شعبہ میں تعاون کررہا ہے، ہر چھے میں سے ایک پاکستانی کو بجلی فراہم کی اور اسپر ہمیں فخر ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کی ترقی کے لئے انرجی سیکٹر کی ترقی ضروری ہے ہم نے انرجی سیکٹر ہائیڈرو اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی، چاہتے ہیں کہ ہمارے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے جس میں پاکستانی حکام کے گڈ مینجمنٹ، پالیسی ڈویلپمنٹ ماہرین کے دورے شامل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سیکٹر کے لئے نجی شعبہ کی شرکت ضروری ہے ہمارے ملک میں نجی شعبہ بھی مدد کر رہا ہے۔ امریکہ کی GEکمپنی مدد کر سکتی ہے۔ انرجی سیکٹر کی ترقی میں بہترین پلاننگ ضروری ہے۔ ترکی کے سفیر احسان مصطفےٰ نے کہاکہ ہم نے قائداعظم سولر پاور پارک قائم کیا مئی 2015 مین اس سے ایک سو میگاواتٹ بجلی کی ترسیل شروع ہوئی اسے 300میگاواٹ تک توسیع دی جاسکتی ہے ، ترقی کے لئے پاور سیکٹر کی ترقی ترجیح بنیادوں پر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو اس سلسلہ میں بیشمار مسائل کا سامنا ہے۔پاور سیکٹر میں جنریشن ٹرانسمیشن میں کارکردگی کو موثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے جنگ گروپ کا سیمینار میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو ہر سال انرجی کی پیداوار میں 10فیصد اضافہ ضروری ہے ہم بہاولپور سولر پراجیکٹ میں پاکستان کی مدد کررہے ہیں۔ انرجی سیکورٹی کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس میں قابلیت میں اضافہ ضروری ہے پاکستان کو متبادل ذرائع کو ترقی دینا ہوگی۔چین کے سفیر نے کہا کہ ایک سوال کے جواب میں دونوں ممالک کے درمیان 1986 مختلف شعبوں میں خصوصاً پاور سیکٹر میں تعاون کررہے ہیں اور ماضی کی نسبت اب پاکستانی حکام سے اس تعاون میں آسانی پیدا ہوگی اس طرح ہمیں تعلقات کے فروغ میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ امریکی سفیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کی اس شعبہ کے لئے ترجیحات قابل تعریف ہیں مگر اس کا بنیادی فوکس پالیسی پر ہونا چاہئے امریکی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کو تیار ہیں لیکن سب کے لئے یکساں مواقع ہونے چاہئیں۔ سفیر ہیل نے زور دیا کہ امریکہ 1950ءکی دہائی سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں تعاون میں مصروف عمل ہے۔امریکہ پاکستانی حکام کے ساتھ پالیسی سازی میں اچھے نظم و نسق اور بہترین اقدامات کو شامل کرنے پر کام کررہاہے۔ہم نے پاکستان کو امریکی محکمہ توانائی کے اعلیٰ سطح عہدیداروں،ماہرین اور جامع توانائی منصوبے تک رسائی فراہم کی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں