آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات8؍صفر المظفّر1440ھ18؍ اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پیک آور میں پوری بجلی،چوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہوگی،اویس لغاری

اسلام آباد(ناصر چشتی، بلال ڈار،اسرار خان ) وزارت توانائی ملک میں موسم گرما میں پیک آور میں طلب کے مطابق بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کررہی ہے اس سلسلہ میں ا علیٰ سطح پر روزانہ اجلاس ہورہے ہیں۔ مستقبل میں بجلی کی پیداوار ٹرانسمیشن ڈسٹری بیوشن کیپسٹی مارکیٹنگ سروسز کو تشکیل دینے کیلئے ایک انرجی پالیسی تشکیل دی جارہی ہے جس کے لئے تمام صوبوں اور سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ہمیں ملک میں بڑھتی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے اور صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے متبادل ذرائع توانائی پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نےجنگ میڈیا گروپ کے زیر اہتمام پاک پاور ۔پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے پاکستان میں چین، امریکہ، جرمنی اور ترکی کے سفیروں کے علاوہ مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو اور اعلی حکام نے شرکت کی ۔اویس لغاری نے کہا کہ جب مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی تو ملک میں بجلی کی کا شدید بحران تھا ، ہم نے

انقلابی اقدامات کر کے ملک میں بجلی کی رسد کو بڑھایا اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک میں موسم گرما میں پیک آور میں طلب کے مطابق بجلی فراہم کرینگے تاہم بجلی کی چوری اور بل نہ دینے والے چند علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہوگی ، بجلی کی کی چوری، لائن لاسز پر کنٹرول ، ریکوریز اور بجلی کی تقسیم کو بہتر بنائے بغیر پاور سیکٹر کو پائیدار نہیں بنایا جاسکتا اس کے لئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے ، انہو ں نے کہا کی ریکوریز کیلئے وفاقی حکومت صوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد طلب کررہی ہے ، انہوں بنے کہا کہ نئی توانائی پالیسی کا فائینل مسودہ اپریل کے آخیر یا مئی کے اوائل میں مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بجلی کی چوری اور لائن لاسز کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس سال اتنی بجلی دینگے جتنی طلب ہوگی ہم متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے حصول کیلئےزیادہ زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ نے نیا قانون منظور کرلیا ہے سینٹ میں پیپلزپارٹی کی کچھ ترامیم تھیں اب اسمبلی سے منظور ہو جائینگی، اس سے صارفین کو تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ متبادل ذرائع ہی ہمارا مستقبل ہیں مختلف سولر منصوبے پائپ لائن میں ہیں ہم نے اس سیکٹر کو بہتر بنانا ہے۔ ہم دوبارہ2013 والی آئی سی یو صورتحال میں نہیں جانا چاہتے۔ ڈسٹری بیوشن کو بہتر کرنا ہے جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ہے ہم اس شعبہ پر توجہ دے رہے ہیں ہم طلب اور رسد میں فرق کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے نجی شعبہ کو شامل کئے بغیر نئی ٹیکنالوجی نہیں آسکتی ہمیں لائن لاسز امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے علاوہ ریکوری کو بہتر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ الیکٹرک کمپنی کو ہر سال پچاس ارب روپے کی سبسڈی30 ہزار ٹیوب ویلوں پر دے رہے ہیں۔ ہم نے ان ٹیوب ویلوں کو سولر پر کرنے کیلئے منصوبہ بنایا ہے۔ ہم نے امریکہ سمیت متعدد ممالک سے ریسرچ کیلئے انسیٹویٹ قائم کرنے کی درخواست کی ہے انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کو اس میں شامل کرکے بہترین تجاویز حاصل کی جا سکتی ہیں اور چین کے ساتھ پاور سیکٹر میں تعاون مثالی قرار دیا ، قومی سیمینار کرانے پر انہوں نے جنگ ، جیو گروپ کا شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئےکنٹری ڈائریکٹر ایشیائی ترقیاتی بنک چیاؤ ہانگ یانگ نے کہا ہےکہ 2006 سے اب تک ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستان کے پاور سیکٹر کو ایک ارب 70کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی ہے ہم لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مستقبل میں بھی مدد کرتے رہیں گے ۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ توانائی شعبہ میں 900 ارب روپے کے گردشی قرضے ہو گئے ہیں جو کہ درست نہیں ہے اگر پاور ہولڈنگ کمپنیوں کے 400 ارب روپے نکال دیئے جائیں تو پانچ سو ارب رہ جاتے ہیں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے یہ مزید کم ہو جائیں گے ۔اْنہوں نے کہا کہ نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو معاونت فراہم کرنا اْن کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے این ٹی ڈی سی کا کردار انتہائی اہم ہے قابل تجدید توانائی اور متبادل ذرائع ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں ۔ اْنہوں نے کہا کہ وزارت میں سفارش کی بنیادپر تبادلوں اور تقرریوں کو سختی سے رد کر دیا گیا ہے اور اس ضمن میں بنائی گئی پالیسی پر نہایت سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس وجہ سے بہت سے سیاستدان اور بیوروکریٹس مجھ سے نالاں بھی ہیں لیکن سفارشی کلچر کو نہیں چلنے دیاجائے گا اس کے علاوہ توانائی کے نظام کی مانٹیرنگ کیلئے کمپوٹرائزڈ سپروائزری سسٹم بھی نصب کررہے ہیں جس کی منظوری ایکنک سے لی جائے گی، ڈسکوز کی سطح پر مقابلہ چاہتے ہیں کیونکہ جب سرمایہ کار آئیں گے تو صارفین بھی من چاہے نرخوں پر خرید سکیں گے ۔ اْنہوں نے کہا کہ پاور ڈسٹری بیویشن کمپنیوں نے بھی اپنے نقصان پر قابو پالیا ہے ، پشاور پاور ڈسٹری بیویشن کمپنی 30 سے 40 ارب روپے ، کوئٹہ پاور کمپنی 50 ارب روپے اور سکھر پاور کمپنی کو سالانہ 20 ارب روپے نقصان کا سامنا تھا ۔جنرل مینجر پیپکو سلیم احمد نے کہا کہ پاور سیکڑ کے ذمہ 729 ارب 80 کروڑ روپے واجب ادا ہیں ہم وصولوں پر خاصی توجہ دے رہے ہیں جس سے وصولوں میں 94 فیصد بہتر ی آئی ہے ۔ اْنہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیویشن کمپنوں نے اوسط نقصان میں نمایاں کمی لائی ہے، پچھلے دو سالوں میں 19.7 فیصد کمی آئی ہے ۔ پشاور الیکڑک پاور کمپنی نے نقصانات 32 فیصد ہو چکے ہیں ۔ متبادل توانائی بورڈ کے سی ای او امجد علی خان نے کہا کہ توانائی نقصانات کی وجہ سے پاکستان کو جی ڈی پی کا 4فیصد نقصان کا سامنا ہے ، ڈسٹری بیویشن کمپنیوں کے نمائندوں نے پینل ڈس کشن میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ریکوریوں کے نظام میں بہتری آئی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے ،لیسکو کے سی ای او مجاہد چھٹہ نے کہا کہ لیسکو کی ریکوری 100 فیصد ہے کیونکہ ہم نے اس پر خاصی توجہ اور اس کو بہترسے بہتربنانے کیلئے بھرپور جدوجہد کی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں